حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 332
317 فہرست ہے۔۱۹۶۵ء کی شوری پر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمدیہ نے فرمایا:۔'سب سے پہلے تو میرے دل میں جذبات کا ایک ہیجان ہے۔اس کا اظہار ایک فقرہ میں میں کر دوں تو بہتر ہے اور وہ یہ کہ ہمارے دوستوں نے بڑے ہی پیار اور بڑے ہی درد کے ساتھ مختلف اور کثرت کے ساتھ تجاویز ہمارے سامنے رکھی ہیں اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں احباب کا شکریہ ادا کروں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر رے۔پہلی بات جو میں تجاویز کے متعلق کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قرآن کریم ہماری زندگی ہماری سوچ ہماری جان ہمارا سب کچھ ہے اور ہر احمدی خواہ وہ بچہ ہو ، جو ان ہو یا بوڑھا مرد ہو یا عورت۔اس کو قرآن کریم سیکھنا چاہئے۔ہمیں ان کو سکھانا چاہئے اور یہ احساس جماعت میں شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ قرآن کریم با ترجمہ جو تفسیر صغیر کی شکل میں حضور نے جماعت کے ہاتھ میں دیا اور قرآن کریم با ترجمہ جو ہر احمدی بچے کے پاس ہونا چاہئے۔وہ مختلف نوع کے ترجمے ہیں اپنے ترجمہ کے لحاظ سے بھی شاید اور اپنی چھپائی وغیرہ کے لحاظ سے بھی یہ دونوں صورتیں ہیں جنہیں جماعت کو پورا کرنا چاہئے۔۔۔۔ہم انتہائی کوشش کر رہے ہیں کہ جلد سے جلد۔۔۔۔تفسیر صغیر اپنے تفصیلی نوٹوں کے ساتھ دوستوں کے ہاتھ میں پہنچ جائے۔۔قرآن کریم با ترجمہ بچوں کے لئے نہایت ضروری اور نہایت اہم کام ہے جس کے متعلق میں معذرت کے ساتھ اور معافی کے ساتھ یہ عرض کرتا ہوں کہ ہم سے بڑی کوتاہی ہوئی ہے بعض تراجم جو اس وقت موجود ہیں ان میں بڑی کثرت کے ساتھ غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ہم کوشش کریں گے کہ اس سال کوئی معیاری ترجمہ جو موٹا موٹا لکھا ہو