حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 329
314 تر اسی کی تلقین فرماتے۔صدر مجلس ہونے کے باوجود نمازوں کی امامت دوسروں سے کرواتے۔نمائش سے کوسوں دور رہتے۔شروع شروع میں اپنی گاڑی خود ڈرائیو فرماتے اور ہم خدام مزے سے بے فکروں کی طرح ہم سفر رہتے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوروں میں ڈرائیونگ کا کام دوسروں کے سپرد کیا جاتا رہا۔مکرم محمد احمد صاحب حیدر آبادی حضور انور کے معتمد علیہ ڈرائیور تھے۔نظم خوانی میں بھی مهارت تھی۔وہ اچھے رفیق سفر ثابت ہوتے تھے۔حضور انور چلتی گاڑی میں بھی ہم سے نظمیں سماعت فرماتے۔۔ایک مرتبہ دوران سفر عاجز نے دیکھا کہ آپ کو جو بچہ بھی نظر آتا اس کو سلام کرتے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ایک دن کسی خادم نے اس کی وجہ پوچھی تو حضور نے فرمایا کہ یہ نسل مستقبل میں احمدیت میں آنے والی ہے۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ ساہیوال میں اجتماع انصار اللہ تھا جس میں حضور انور نے بحیثیت صدر مجلس انصارالله شرکت فرمائی۔رات کے وقت سونے کے لئے چارپائیوں کا اہتمام ہوا تو اس میں حضور انور نے کسی امتیازی جگہ کو قبول نہ فرمایا حضور کی چارپائی کے ساتھ ناچیز کی چارپائی تھی۔حضور تہجد کی ادائیگی فرماتے مگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دیتے تھے۔انتہائی تخلیہ میں یہ عبادت پسند فرماتے کیونکہ حضور زہد و القاء کے اظہار کو ناپسند فرماتے تھے۔عجز و انکسار کا یہ عالم صرف اولیاء اللہ کے حصہ میں ہی آتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ غیر معمولی روحانی رفعتوں سے نوازتا ہے اور ہمارے محبوب عالی مقام کا یہی عجز و انکسار تھا جو آپ کو روحانیت کی بلندیوں تک پہنچانے کا موجب ہوا یہاں تک کہ آپ مستقبل میں ” خلفیہ ذوالقرنین " قرار پائے۔"