حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 328
فرمایا:- 313 کیوں جی آپ بوڑھے تو نہیں" عرض کیا گیا بوڑھا تو نہیں قدرے علیل تھا مگر حضور کے پر تاثیر پیغام نے بفضل خدا علالت رفع کر دی اور بندہ تعمیل ارشاد کر کے حاضر خدمت ہوا۔۴۸۴ مساویانہ سلوک چوہدری شبیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ۔" آپ کی صدارت میں آپ کی باغ و بہار طبیعت کے باعث مشکل سے مشکل کام بھی اور خشک سے خشک فرائض بھی ہم سب بطیب خاطر ادا کیا کرتے تھے۔دوران اجلاس آپ کی مسکراہٹ ، لطیف مزاج اور ہر ایک سے مساویانہ شفقت ہمیں انصار اللہ کی تنظیم کا اس قدر دلدادہ بنا دیتی تھی کہ اس میں حصہ لیتے ہوئے طبیعت ایک سرور محسوس کرتی تھی۔اجلاس کے خوش گوار ماحول کے علاوہ وقتاً فوقتاً پکنک کا اہتمام سونے پر سہاگے کا کام دیتا تھا۔ہر پکنک ایک خوش گوار یادوں کا مرقع بن جاتی تھی اور آئندہ کی پکنک کا انتظار رہتا تھا۔پکنک میں ہم سب سے اتنا مساویانہ سلوک ہوتا کہ سب انصار آپ سے کھل کر بات کرتے ، مذاق بھی کر لیتے اور تفریح کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہتا۔۴۹ پیکر عجز و انکسار چوہدری شبیر احمد صاحب ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ۔” عاجز کو تقریباً ۱۹۶۰ء سے حضور پر نور کے ساتھ مجلس انصار اللہ کے دورہ جات میں گاہے گاہے رفاقت کا شرف حاصل رہا۔حضور انور سب ہم سفر خدام سے برابری کا سلوک فرماتے۔کسی کو احساس کمتری نہ ہونے دیتے۔تقریر فرماتے تو سراسر عجز و انکسار کا اظہار ہوتا اور زیادہ