حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 327
312 انصار کی عمر کو پہنچنے سے پہلے قریباً مفقود ہو چکی تھی۔انصار کی عمر میں پہنچ کر جب اپنے محبوب صدر کا قرب حاصل ہوا تو آپ کو یاد تھا کہ بندہ بچپن میں نظم خوانی کیا کرتا تھا۔بس آپ نے انصار اللہ کے سٹیج پر نظم خوانی کی ایسی مشق کرائی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خفیہ صلاحیت بیدار ہو گئی اور۔۔۔۔جلسہ سالانہ کی سٹیج پر مسلسل ۱۶ سال سید نا حضرت اقدس کا منظوم کلام سنانے کی توفیق ملتی رہی۔حضرت ممدوح کو کسی خفیہ صلاحیت کو بیدار کرنے کے لئے کسی لمبے چوڑے وعظ کی ضرورت نہ تھی۔آپ کا ایک فقرہ اور بعض اوقات ایک اشارہ ہی ایک تن مردہ میں جان ڈالنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔ایک مرتبہ جبکہ بندہ دار النصر میں شہر سے دور رہتا تھا رات کے وقت حضرت ممدوح کی طرف سے ارشاد موصول ہوا کہ فلاں شخص بیرون ملک سے آئے ہیں ان سے مل کر مجھے ان کے حالات سے آگاہ کریں۔خاکسار کو غالبا وقار عمل کی وجہ سے سخت تھکان تھی، ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا، سردیوں کی تاریک رات تھی۔بندہ نے عرض کر دیا کہ انشاء اللہ صبح تعمیل ارشاد کر دی جائے گی۔تھوڑی دیر کے بعد اس رقعہ پر حضرت ممدوح کے یہ جادو بھرے الفاظ پیغامبر لایا "آر بوڑھے تو نہیں ہیں"۔عاجز سمجھ گیا کہ معاملہ فوری نوعیت کا ہے۔دل میں علالت کا خیال تک نہ رہا نہ یہ امر مانع ہوا کہ اکثر لوگ محو خواب ہو گئے ہیں۔اسی وقت فورا لمباکوٹ پہنا اور شہر میں لنگر خانہ پہنچا اور مطلوبہ دوست کا پتہ کر کے حضرت ممدوح کی خدمت میں رپورٹ عرض کر دی۔اس وقت حضرت ممدوح کی رہائش کالج کے بنگلہ میں تھی۔رات کی تاریکی میں میرے حاضر خدمت ہونے پر آپ باہر تشریف لائے تو حسب معمول چاند سے چہرے پر مسکراہٹ کھل رہی تھی اور شفقت بھرے انداز میں