حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 310 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 310

295 بلند و ارفع مقام اور شخصیت رکھنے والا آمر بغیر سزا دیئے کسی اپنے نکتہ چین کو جس نے اس کی عزت اور پوزیشن پر بر ملا ہاتھ ڈالا ہو یکسر معاف ہی نہ کر دے بلکہ معترض کا اعزاز اور مرتبہ بھی بلند کر دے۔یہ خاص شفقت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔" دلکش شخصیت مکرم ثاقب زیروی صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔”جب میں شعر کہنے کی سوجھ بوجھ رکھنے کے باوجود محض ایک کندہ ناتراش دیہاتی تھا (نہ اظهار و بیان نہ سلیقہ) اور نہ ہی آداب محفل کا کامل شعور۔۔۔دوسرے یا تیسرے سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ کی بات ہے جس کا افتتاح حضرت مصلح موعود " نے مسجد اقصیٰ میں فرمایا تھا۔معلوم ہوا کہ کل حضرت خلیفۃ المسیح مسجد اقصیٰ میں خطاب فرمائیں گے۔۔۔۔میرے دل میں اس اجلاس کے لئے ایک تازہ نظم کہنے کی تحریک پیدا ہوئی اور میں اسٹیشن کی طرف نکل گیا۔۔۔۔مغرب کے بعد واپس آیا نظم مولوی محمد سلیم صاحب کو سنائی جسے انہوں نے پسند کیا۔۔۔۔میں نے خواہش کا اظہار کیا کہ آپ۔۔۔۔اجلاس میں میری نظم پڑھوا دیں۔۔۔انہوں نے کہا یہ میرے بس کا روگ نہیں۔حضور کی تقریر سے پہلے عموماً صرف انہی اشخاص کو نظم پڑھنے کے لئے کہا جاتا ہے جن کے ناموں کی حضور اجازت دیں۔۔۔۔بہر حال ہم اگلے روز اجلاس کے وقت سے کچھ پہلے ہی مسجد اقصیٰ میں پہنچ گئے اور شمالی کنوئیں کے پاس۔۔۔۔حضرت مولانا راجیکی صاحب رحمہ اللہ کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔میں نے ان سے بھی اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا۔۔۔مسجد کی جنوبی جانب کھڑے ہوئے ایک اور