حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 309 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 309

294 امریکہ بیان کرتے ہیں۔” ان ایام کی بات ہے جب حضور خدام الاحمدیہ کے صدر ہوا کرتے تھے۔خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا اجتماع تھا۔سوال و جواب کا سیشن تھا۔غیر شعوری طور پر میں نے ان چند خدام کا اثر لے لیا جو میرے ارد گرد میرے کان بھر رہے تھے۔صدر کو بھلا سزا دینے کا کیا حق ہے نیز جب کہ حضرت خلفیہ المسیح الثانی (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو) کا ارشاد ہے کہ خدام سارا کام خود اپنے ہاتھ سے کریں یہ بعض کام مثلاً سودا سلف منگوانا دوسروں سے کیوں کرواتے ہیں ؟ میرا بے باکی سے سوال کرنا تھا کہ سامعین پر ایک سناٹا سا چھا گیا اور میں نے نادانستگی سے ایک ایسی حرکت کر دی جس کا مجھے آج تک احساس ہے۔حضرت میاں صاحب نے اس کے جواب میں ایک نہایت مدلل اور مفصل تقریر کی اور ان اشخاص کے شکوک کو کما حقہ رفع کیا جو متذکرہ ضمن میں پیدا ہو سکتے تھے۔اجتماع ختم ہو گیا۔مجھے اپنی غلطی پریشان کرتی رہی اور میں رات بھر پریشان رہا اور اس ندامت کو محسوس کرتا رہا جو مجھے ایک صالح ، نامور لیڈر پر ناجائز اعتراض کرنے کے بعد پیدا ہوئی۔یہ تو میری ذہنی کیفیت تھی لیکن جس بزرگ ہستی کو میں نے اعتراضات کا نشانہ بنایا اس کے کردار کی بلندی اور تربیت کرنے کی باریک راہوں کے اس اقدام کو دیکھئے جو انہوں نے اس ناچیز اور نااہل خادم سے روا رکھا تھا۔صبح ہوئی۔خدام الاحمدیہ کا کلرک خدام الاحمدیہ کا رجسٹر لئے ہوئے میرے دستخط کروانے کے لئے میرے دروازے پر آیا اور مجھے وہ فہرست دکھلائی جس میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے مجھے خدام الاحمدیہ کا و هستم ایثار و استقلال" مقرر فرمایا تھا۔۔۔۔دنیا میں بہت ہی کم ایسی مثالیں ملیں گی۔ایک صاحب اقتدار اور