حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 301 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 301

286 میں نے کہا ہاں مل سکتے ہیں۔کہنے لگے چار گھوڑوں کا انتظام کر دیں میں نے ایریا کمانڈر سے اجازت لے کر AT والوں سے چار گھوڑوں کا انتظام کر دیا۔دن کے وقت دشمن کے ہوائی جہاز اور توپ خانہ فائر کرتا تھا اس لئے رات کے وقت سفر کیا جاتا تھا۔چار گھوڑوں کے ساتھ چار سپاہی تھے حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے ایک گھوڑا چوہدری نور الدین صاحب ذیلدار کو دیا، دوسرا مولوی عصمت اللہ صاحب کو تیسرا ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب اور چوتھا مجھے یاد نہیں رہا کیونکہ وہ بھی عمر رسیدہ تھے اور خود میجر حمید احمد کلیم صاحب اور محمود احمد صاحب تینوں پیدل روانہ ہوتے ہی واپس آئے جاتے ہوئے میں نے کہا بھی کہ اور گھوڑوں کا انتظام ہو سکتا ہے مگر نہیں مانے۔جب واپس آئے تو رات کو بارش شروع ہو گئی اس وقت ہمارے پاس ایک چھوٹا سا کمرہ تھا اس میں ہم سب نے رات بسر کی۔صبح سویرے ایریا کمانڈر صاحب پاکستان آرمی ان کو ملنے کے لئے آئے۔ہم نے زمین پر کمبل بچھا دیئے اور بیٹھ گئے۔اسی وقت ایریا کمانڈر صاحب نے اپنے اردلی کو کہا کہ فوراً یہاں چار پائیاں لے آؤ تین چار آدمی چار پائیاں لے کر آگئے۔ایریا کمانڈر نے مجھے کہا کہ آپ نے رات کو کیوں نہیں بتایا میں رات کو چار پائیاں بھیج دیتا۔آپ چار پائی پر بیٹھ گئے اور اس سے باتیں کرنے رہے جب ایریا کمانڈر چلا گیا تو مجھے کہنے لگے سلام صاحب کمبل زمین پر بچھاؤ اور پھر۔زمین پر لیٹے رہے دن وہاں گزارا۔رات کو ٹرک پر بیٹھ کر سرائے عالمگیر پہنچے اس سفر میں پاؤں پر چھالے پڑ گئے۔میں نے بھمبر ہسپتال سے ٹینکر آیوڈین لا کر دی وہ دن بھر چھالوں پر لگاتے رہے۔" مصلح موعود کی صدارت میں صاحبزادہ صاحب کی نائب صدارت ۳۰ ۱۳۱ کتوبر ۱۹۴۹ء کو خدام الاحمدیہ کا ربوہ میں پہلا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔