حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 289 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 289

274 الفضل ۲۱ نومبر ۱۹۴۷ء (مطابق ۲۱ نبوت ۱۳۳۶ ہش ) میں شائع ہوا۔آپ نے اپنے ولولہ انگیز پیغام میں فرمایا:۔” قادیان عارضی طور پر ہمارے ہاتھوں سے جا چکا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔مومین کا بھروسہ چونکہ محض اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ چونکہ خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہو رہا ہے۔اس لئے ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ سب کچھ اور مصائب محض ہماری ترقیات کے لئے ہیں۔اگر ہم اپنے آپ کو ان وعدوں کا اہل بنائیں اور یہی ہمارے لئے غور کا مقام ہے کہ کیا ہم ان وعدوں کے اہل نہیں ؟ کیا۔ہم ان مصائب میں اپنے ایمان اور اخلاق پر پختگی سے قائم ہیں ؟ کیا ہم۔نے یہ عہد کر لیا ہے کہ اب دنیا کے آرام سے ہم اسی وقت حصہ لیں گے جب روحانی اور جذباتی آرام ہمیں پھر سے حاصل ہو جائے گا۔جب ہمارا قادیان پہلے کی مانند ہمارا ہو جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو ہم نے سب کچھ کھو کر بھی کچھ نہیں کھویا۔اگر ہم اپنے مولیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔اگر ہم اپنے اوقات مال جان اور آرام کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان کرنے کو تیار ہوں تو وہ دن دور نہ ہوں گے جب ہم پھر سے "معاد" کی طرف فتح و کامرانی کے ساتھ واپس لوٹیں گے جیسا کہ خدا تعالیٰ کا ہم سے وعدہ ہے۔اے خدا جلد ایسا ہی کر۔(آمین)۔اس نازک دور پر خدام پر بہت ہی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔خدا تعالٰی ہمیں اس دور کی نزاکت کے سمجھنے اور اس کی ذمہ داریوں کے نباہنے کی توفیق عطا کرے۔آمین ee پاکستان میں خدام الاحمدیہ کی سرگرمیوں کے احیاء کے سلسلہ میں آپ نے ہجرت کے فوراً بعد پاکستان کے دورے بھی کئے اور بعض جگہوں پر نئی مجالس قائم فرمائیں اور خدام میں عمومی بیداری پیدا فرمائی۔