حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 278
263 چھوڑ سکتا۔یہ ایک احمدی کے دل میں اپنے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی میں ولی کے لئے غیرت کا برملا اظہار ہے۔غرض اس محلے تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، ایک چھوٹی گلی تھی اس کے اوپر ہم نے گیلیاں رکھیں اور ایک پل بنایا اور اس کے ذریعہ ہم نے وہاں رضاکار بھجوائے۔جب ہمارے رضا کار وہاں گئے تو پولیس نے دو آدمیوں کو شوٹ کر کے وہاں شہید کر دیا لیکن دو آدمیوں کی موت آٹھ سو یا ہزار افراد کی زندگیوں سے تو زیادہ قیمتی نہیں تھی اس لئے ہمارے اور رضا کار وہاں پہنچ گئے اور ان لوگوں سے کہا کہ چھوڑو ہر چیز اور اپنی جانوں کو بچاؤ چنانچہ عورتیں، بچے اور مرد گھروں سے نکلے اور ایک چھوٹے سے پل پر سے ہوتے ہوئے ہمارے علاقے میں آگئے یہ جو آٹھ سویا ہزار جانیں بچ گئیں ان میں تین چار سو مستورات تھیں۔ان کے لئے ہم نے دار مسیح میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی حویلی کے اندر ایک اور حویلی تھی وہ خالی کروائی ، بڑی اچھی، صاف ستھری ، صحن اور بڑے بڑے کمرے تھے۔غسل خانے اور پانی سب کچھ تھا۔عورتوں کو وہاں ٹھہرایا گیا۔باہر رضا کار مقرر کر دیئے۔اب بارشیں شروع ہو گئیں تو بیچاری غریب عورتوں کو جو ایک ایک کپڑے میں اپنے گھروں سے نکلی تھیں جب بارش میں باہر کام کرنا پڑتا تو کپڑے گیلے ہوتے اور پھٹ گئے۔ایک دن رضاکار میرے پاس آئے اور کہنے لگے ہم وہاں کام نہیں کر سکتے۔میں بڑا حیران کہ ان کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے، کام سے کیوں انکار کر رہے ہیں؟ میں نے ان سے پوچھا۔کیا ہوا؟ کیا کسی نے تمہیں کچھ کہا ہے ؟ وہ کہنے لگے عورتوں کے تن پر صرف چیتھڑے رہ گئے ہیں کسی کام کے لئے وہ تھوڑا سا پردہ اٹھاتی ہیں تو ان کے جسم کے بعض حصے ڈھانچے نہیں ہوتے ، ہم وہاں کام نہیں کر سکتے۔اب میں وہاں تین چار سو جوڑے کہاں سے لاتا۔اگر بنواتے بھی تو اول تو درزی ہی