حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 273 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 273

258 جواں مردی سے اپنی جان کو خطرات کے سامنے پیش کرتے ہوئے سر انجام دیا۔باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلمان اکثریت والے ضلعوں اور تحصیلوں کے نقشے پیش کرنے کا کام تھا کہ اپنے کالج کے پروفیسروں کو طلبہ کو رات دن اسی کام میں لگا دیا۔خاکسار کو یاد ہے کہ کالج کے طلبہ کی ٹیمیں لے کر خاکسار قادیان سے سول سیکرٹریٹ میں آیا کرتا تھا اور خواجہ عبدالرحیم صاحب جو شاید چیف سیکرٹری یا کمشنر تھے۔ان کی مدد سے ہم سیکرٹریٹ کے ریکارڈ سے قصبات اور دیہات کی مسلم اور غیر مسلم یعنی ہندو اور سکھ آبادی کو نوٹ کیا کرتے تھے اور پھر اس کے مطابق تھانہ وائز ، تحصیل وائز اور ضلع وائز مسلم اکثریت رکھنے والے علاقوں کے نقشے تیار کیا کرتے تھے۔ہماری تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز ہوا کرتی تھیں کہ قادیان کا علاقہ مسلم اکثریت میں ہونے کی بناء پر پاکستان میں شامل کیا جائے مگر تقدیر خداوندی ہی پوری ہوئی۔۱۲ باؤنڈری کمیشن کے سلسلہ میں جن خدمات کی آپ کو توفیق ملی ان کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک بار فرمایا:۔11 اله ۱۹۴۷ء میں جب پاؤنڈی کمیشن بیٹھا تو اس کمیشن کے سامنے اعداد و شمار پیش ہوئے۔دجل کیا گیا۔ہندوؤں نے یہ دجل کیا کہ انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ بات پیش کر دی کہ گو ضلع گورداسپور کی مجموعی آبادی میں مسلمان زیادہ ہیں لیکن ضلع کی بالغ آبادی میں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور چونکہ ووٹ بالغ آبادی نے دینا ہے اس لئے یہ ضلع بھارت میں شامل ہونا چاہئے۔ہم جب وہاں سے واپس آئے تو ہم سب پریشان تھے۔اس وقت اللہ تعالٰی نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اگر ہمیں ۱۹۳۵ء کی سنسز رپورٹ (Census Report) مل جائے تو اس وقت تک سب سے آخر میں ۱۹۳۵ء میں ہی سنسز (Census)