حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 267
252 زیادہ خدام باہر کھڑے نہ ہوں۔لاؤڈ سپیکر کام نہیں کر رہا تھا جس کی وجہ سے وہاں خرابی پیدا ہو گئی، تو خیر خدام دوڑے ہوئے میرے پاس آئے کہ حضرت صاحب کا حکم ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔ابھی دیکھتے ہیں۔پہلے میں نے بھی نہیں دیکھا تھا۔بس ساتھی لئے تھے اور کام شروع کر دیا تھا۔جب گنتی کی تو ہم سب ستر تھے، سو بھی نہ تھے اور چالیس ہزار کا مجمع ہمارے سامنے تھا۔خوف اگر کسی کے دل میں تھا (تو) ان کے دل میں تھا۔ہمارے دل میں نہیں تھا خدا تعالیٰ کا ایک نشان میں بتا دیتا ہوں۔میں نے دور سے دیکھا۔ہم سے غفلت یہ ہوئی کہ عورتیں جلسہ میں شامل ہوئی تھیں اور قنات تھی Open Space میں ڈبل قنات لگائی ہوئی تھی ہماری جماعت نے۔ایک تو عورتوں کے جلسہ گاہ کے ارد گرد تھی اور ایک پچاس چالیس قدم وہاں سے ہٹ کر دوسری قنات لگائی ہوئی تھی اچانک میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ وہاں ہمارا کوئی رضا کار نہیں اور ایک پہلوان تین چار من کا بڑا مضبوط دور سے دیکھا کہ وہ تیر کی طرح سیدھا عورتوں پر حملہ کرنے کے لئے دوڑا چلا جا رہا ہے۔اس وقت وہاں کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ہم نے کہا دیکھیں یہاں ہوتا کیا ہے۔خدام تو بکھرے ہوئے تھے۔بڑی استغفار کی کہ غفلت ہو گئی۔وہاں وہ قنات کے پاس گیا اور جھکا اور قنات کے بانس کو اکھاڑا اور ہمیں دور سے یہ نظر آیا کہ کسی نے اندر سے سوئی ماری ہے اس کے سر پر اور وہ واپس بھاگا۔میں حیران تھا کہ وہاں رضاکار کوئی ہے نہیں اور وہاں کوئی عورت گئی سوئی مارنے کے لئے، آخر بات کیا ہوئی ہے بہت استغفار کیا کہ وہاں رضاکار ہونا چاہئے۔جب جا کر دیکھا تو ہوا کہ اس نے جھٹکے کے ساتھ بانس کو زمیں سے باہر نکالا تھا وہ معلوم دیمک خوردہ تھا جھٹکے سے وہ اپنے نصف سے ٹوٹا اور اسی بانس کا اوپر کا نصف اس کے سر پر پڑا اور اس طرح وہ بھاگ گیا" ک