حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 247 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 247

232 نہیں رہتے جنہوں نے خدا کی تقدیس اور بنی نوع انسان کی خدمت کی نیت سے آکسفورڈ کیمبرج اور ہاورڈ میں کالج قائم کئے۔خالصتاً ذاتی عزم و ہمت کے بل بوتے پر ربوہ میں ایسی درسگاہ کا قائم کر دکھانا ایک عظیم کارنامہ ہے اور پھر اس کی آبیاری کرنا اور پروان چڑھا کر اسے حسن و خوبی اور مضبوطی و استحکام سے مالا مال کر دکھانا اور بھی زیادہ قابل ستائش ہے اور ایک ایسے پرائیویٹ ادارے کو دیکھ کر جو باہمی مخاصمت اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں سے پاک ہو اور جس کی تمام تر کوششیں اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لئے وقف ہوں استعجاب اور رشک کے جذبات کا ابھرنا ایک قدرتی امر ہے۔آپ کے امام جماعت کو علم اور اس کی ترویج سے جو محبت ہے آپ کے پرنسپل صاحب اور ممبران سٹاف ایسے ماہرین تعلیم بھی اس میں حصہ دار ہیں۔اپنی مرزا ناصر احمد جنہیں اپنے شاگردوں میں شمار کرنا میرے لئے باعث عزت ہے برصغیر ہند و پاکستان کے نامور فاضل اور ماہر تعلیم ہیں۔یہ کالج کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ایک ایسے پرنسپل کی راہنمائی حاصل ہے جو زندگی میں آج کے دن تک بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ مقررہ نصب العین کے حصول میں کوشاں چلے آ رہے ہیں اور زمانے کے اتار چڑھاؤ ان کے لئے کبھی سد راہ ثابت نہیں ہو سکے۔ان سے کم اہمیت اور کم عزم و حوصلہ کا انسان ہوتا تو زمانے کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ہمیں ایسے ہی آدمیوں کی ضرورت ہے جو ایمان و یقین ، فدائیت اور بلند کرداری کے اوصاف سے متصف ہوں۔مرزا ناصر احمد صاحب سے متعارف اور ان کی دوستی کے شرف سے مشرف ہونا عزم و ہمت کے از سر نو بحال ہونے کے علاوہ خود اپنے آپ کو اس مستقبل کے بارے میں جو زمانہ کے پریشان کن بادلوں کے پیچھے