حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 246
231 ہدایت فرمائی کہ یہ دو گھنٹے پہلے دریا پر جائے گا اور اسے تیرا کی سکھانی ہے 109 ایک ماہر تعلیم کا خراج عقیدت ۱۹۶۱ء کے جلسہ تقسیم اسناد کے موقعہ پر مہمان خصوصی صوبائی سیکرٹری تعلیم جناب پروفیسر سراج الدین صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایا :۔مین ، " خالصتاً ذاتی عزم و کوشش کے نتیجہ میں ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج جیسی درسگاہ کو قائم کر دکھانا اور پھر اسے پروان چڑھا کر اس کے موجودہ معیار پر لانا ایک عظیم کارنامہ ہے۔تعلیم الاسلام کالج کی یہ خوشی قسمتی ہے کہ اسے ایک ایسے پرنسپل کی رہنمائی حاصل ہے جو ایمان و خلوص و فدائیت اور بلند کرداری کے اعلیٰ اوصاف سے مالا مال ہے۔آج ہم کو ایسے ہی باہمت بلند حوصلہ اور اہل انسانوں کی ضرورت ہے۔ہر چند مجھے پہلی بار تعلیم الاسلام کالج کی حدود میں قدم رکھنے کا اتفاق ہوا ہے تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں اور ان تمام لوگوں کے دلوں میں جو اس صوبے میں تعلیم سے کسی نہ کسی طرح متعلق ہیں ان کی محبت کا ایک خاص مقام ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم الاسلام کالج دو نمایاں اور ممتاز شخصیتوں والد اور فرزند کی محنت اور محبت و شفقت کا ثمرہ ہے۔میری مراد آپ کی جماعت کے واجب الاحترم امام جو اس کالج کے بانی ہیں اور ان کے لائق و فائق فرزند مرزا ناصر احمد سے ہے وہ اپنے مشہور و معروف خاندان کی قائم کردہ روایات کو وقف کی روح اور ایک ایسے جذبہ و شوق کے ساتھ چلا رہے ہیں جو دوسرے ممالک میں بھی شاذ ہی نظر آتا ہے۔جب میں اس کالج پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے انگلستان اور امریکہ میں علم کی ترویج اور اس کے فروغ کے متعلق انسانوں کے وہ عظیم محسن یاد آئے بغیر