حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 231
216 آپ نے " ترقی یافتہ دور" کے الفاظ کو ہی بنیاد بنایا اور فرمایا کہ اس ترقی یافتہ دور کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر کام اس کے Specialist (ماہر) کے سپرد کر دیا گیا ہے جس کام میں کوئی شخص Specialist (ماہر) ہو اس دائرہ میں اس کی رائے کو تسلیم کیا جاتا ہے چنانچہ آپ نے مذہب کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنی ہے تو جو بھی اس کے Specialists (ماہرین) ہیں ان سے رابطہ قائم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی رائے کو ہی فوقیت حاصل ہو گی چنانچہ آپ نے بڑی جرات اور حکیمانہ انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا ذکر فرمایا اور ان سے رابطہ قائم کرنے کی دعوت دی۔۰۸۸۴ شاف پر مکمل اعتماد ڈاکٹر پروفیسر نصیر احمد خان صاحب بیان کرتے ہیں:۔" سٹوڈنٹس یونین سالها سال میرے سپرد رہی۔ایک مرتبہ منتخب صدر اور معتمد دونوں طلباء ہی نہایت شریف اور ضرورت سے زیادہ نرم خو واقع ہوئے۔مجھے نظم و ضبط کچھ ڈھیلا پڑتا دکھائی دیا یعنی ہمارے اس وقت کے معیار کے لحاظ سے۔متعدد مرتبہ انہیں سمجھایا کہ ہر اجلاس سے قبل پیش بندی کرو۔والٹیئر ز مقرر کرو وغیرہ وغیرہ مگر وہ دونوں اپنی نرم خوئی سے مجبور تھے۔سوئے اتفاق سے ایک میٹنگ کے دوران دو طلباء میں کچھ تو تکار ہو گئی۔اساتذہ بھی موجود تھے۔بہت ناگوار گزرا بھری مجلس میں اعلان کر دیا کہ صدر اور معتمد دونوں کو موقوف کرتا ہوں۔ہال میں سناٹا چھا گیا۔۔۔۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ بحیثیت پر نسپل یہ حق رکھتے تھے کہ مجھے بلا کر پوچھتے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے مجھ سے کیوں نہیں پوچھا؟ لیکن آپ کا طریق یہ تھا کہ جس کے سپرد کوئی کام کرتے اس پر مکمل اعتماد کرتے“