حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 230
215 ایک ساتھی نے ایسا خط لکھنے سے منع کیا کہ صاحبزادہ صاحب کو اس طرح نہ لکھیں مگر مجھے مشورہ دینے والے بھی میری طرح تہی دست تھے۔ہیم ور جا کے ملے جلے جذبات کے ساتھ میں نے رد عمل کا انتظار کیا نہ صرف جواب آیا بلکہ جواب حوصلہ افزا تھا۔انہوں نے لکھا تھا کہ دفتری کلرک کی غلطی نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ شائد میں نے بل ادا کرنا ہے حالانکہ ایسا نہیں، حقیقت صرف اتنی تھی کہ ایک ایسی فرم کو کالج کی طرف سے بعض اشیاء کی فراہمی کے لئے لکھا گیا ہے جس سے پہلے بھی سامان آتا ہے۔کلرک کو یہ کہا گیا تھا کہ آپ کو لکھ دے کہ فرم کو کہہ کر جلدی بھجوا دیں، ادائیگی پہلے بھی قانون کے مطابق بنک کے ذریعہ ہوتی ہے اب بھی ہوگی۔اس خط کی جان ایک فقرہ تھا جس کے اصل الفاظ تو تمہیں سال گزرنے کے بعد صحیح یاد نہیں مگر کچھ اس قسم کے تھے که " آپ کی صاف گوئی سے خوشی ہوئی ہے۔میں بھی واقف زندگی ہوں آپ کی حالت قیاس کر سکتا ہوں " مجھے اس سے از حد اطمینان ہوا اور وقف کے کٹھن مراحل بھی بہت آسان ہو گئے۔۰۸۷۲ علم و حکمت مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں:۔ایک مرتبہ پشاور یونیورسٹی میں آپ تشریف لے گئے اپنے اور بیگانے سبھی آپ کے گرد جمع ہو گئے۔شام کو ایک نشست ہوئی جس میں آپ پر سوال کیا گیا کہ آج کل کے ترقی یافتہ دور میں مذہب کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ آپ کا جواب اگر چہ مختصر تھا لیکن نہایت مسکت اور اطمینان بخش۔