حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 225
210 حاصل ہو تیں۔اسی بناء پر پاکستان کے دور دور از علاقوں سے طالب علم تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں کھینچے چلے آئے بلکہ بیرون پاکستان شمالی، مشرقی اور مغربی افریقہ سے بھی طلباء اخلاقی و علمی تسکین کے لئے یہاں آئے۔۸۰ تعلیم الاسلام کالج کی روایات خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد ۱۹۲۶ء کے جلسہ تقسیم اسناد میں حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی روایات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔(1) " اس درس گاہ کے اساتذہ کی یہ روایت ہے کہ وہ اپنے طلباء کے ساتھ بچوں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں۔ان کی جائز ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔دکھ سکھ میں ان کے شریک ہوتے ہیں۔ہر وقت بے نفس خدمت میں لگے رہتے ہیں اور پوری توجہ اور پوری کوشش کے ساتھ بچوں کی رہبری اور رہنمائی میں مصروف رہتے ہیں۔(۲) ہمارے عزیز بچوں میں یہ روایت پختگی کے ساتھ قائم ہو چکی ہے کہ وہ غلط سیاست میں حصہ نہیں لیتے اور سٹرائیک و دیگر ایسی ہی بد عادات سے وہ اتنے ہی دور ہیں جتنی کہ زمین آسمان سے۔(۳) اس درس گاہ کا فکر و عمل مذہب و ملت کی تفریق و امتیاز سے بالا ہے۔ہر طالب علم خواہ وہ کسی مذہب کسی فرقہ یا سیاسی جماعت سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہوں ہر قسم کی جائز سہولتیں حاصل کرتا ہے اور اس کالج کے اساتذہ ہر طالب علم کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کی طرف پوری طرح متوجہ رہتے ہیں۔(۴) یہاں امیر و غریب میں کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا۔ایک غریب کی عزت و احترام کا ویسا ہی خیال رکھا جاتا ہے جیسا کہ کسی امیر طالب علم