حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 214
199 کالج کے نظام تعلیم و تربیت کا نقشہ صاحبزادہ صاحب کی زبانی فرمایا :- ނ " ہمارے طلبہ اور ہمارے اساتذہ تعلیم و تربیت کو ایک مقدس فرض تصور کرتے ہیں ہمارے پاس برے بھلے ہر قسم کے طلبہ آتے ہیں ایک باپ کی حیثیت سے سزائیں بھی دینی پڑتی ہیں اور ایک باپ ہی کی محبت کا سلوک کرنا پڑتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان عزیزوں کے لئے صحت افزا ذہنی اخلاقی اور جسمانی فضا مہیا کرنا ان کی شخصیتوں کے جملہ پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہمارا فرض ہے۔ہمارے نزدیک مسجد کے بعد مدرسے کا تقدس ہے اور ہماری اس درس گاہ میں اللہ تعالی کے فضل تعلیم و تربیت کے فرائض عبادت کے رنگ میں سر انجام دیئے جاتے ہیں۔جہاں رنگ اور مذہب ، افلاس اور امارت اپنے اور بیگانے کی کوئی تفریق نہیں۔جہاں طلباء مقدس قومی امانت ہیں، جہاں ماحول خالص اسلامی اور اخلاقی ہے نہ کہ سیاسی جہاں منشائے مقصود خدمت ہے نہ کہ جلب منفعت ، جہاں غریبی عیب نہیں اور امارت خوبی نہیں، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے عظیم اور مثالی ادارے کی کما حقہ حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے جس کے ذرے ذرے پر اس کے فدائی اساتذہ اور طلباء نے خون دل سے محنت اور اخلاص کی داستانیں لکھی ہیں۔یہاں اساتذہ سستی شہرت کی خاطر اپنے فرائض کے تلخ پہلوؤں سے اغماض نہیں برتتے اور نہ ہی طلباء سٹرائیک کی قسم کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔یہاں نہ صرف ملک کے گوشے گوشے بلکہ غیر ممالک سے بھی ہر مذہب اور خیال کے طلباء اس۔پر سکون، سادہ اور پاک ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔۲۔" تعلیم الاسلام کالج ایک بین الاقوامی حیثیت کا حامل ہے کالج کے