حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 3
الرحمان صاحب بسمل کے لئے بھی دعا کی درخواست کرنا چاہتا ہے جن کی رہنمائی اور دعائیں اس عاجز کے شامل حال رہیں اور جو اس کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی اس دار فانی سے گزر گئے۔(اللہ تعالیٰ ان کے درجات اپنے قرب میں بڑھاتا رہے آمین) اس کتاب کی تصنیف کے سلسلہ میں ایک تصرف الہی کا ذکر کرنا ازدیاد ایمان کا موجب ہو گا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۱۹۷۹ء اور ۱۹۸۱ء کے دوران خاکسار کا قیام اسلام آباد میں تھا اس دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کئی بار اسلام آباد تشریف لائے۔حضور کا قیام بیت الفضل سکیٹر 8۔F میں ہوتا تھا جہاں ہم اکثر حاضر خدمت رہتے تھے اور حضور کی زیارت ، ملاقات اور گفتگو سے فیض یاب ہوتے رہتے تھے۔ایک روز حضور کسی موضوع پر گفتگو فرما رہے تھے جس کا آخری فقرہ کچھ یوں تھا کہ انسان کی سوائح تو اس کی وفات کے بعد ہی لکھی جاتی ہے۔اس وقت حضور کا چہرہ مبارک خاکسار کی طرف تھا اور خاکسار کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے اپنی سوانح مبارک کے بارہ میں خاکسار کو ارشاد فرما رہے ہوں۔چنانچہ ناگہانی طور پر حضور کے وصال کے چند سال بعد حضور" کی سوانح پر کتاب لکھنے کا کام خاکسار کے سپرد ہوا۔اس پر مستزاد یہ کہ جن دنوں خاکسار کو یہ کام تفویض ہوا انہی دنوں سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ کو اس بارہ میں ایک خواب آیا جس کا ذکر انہوں نے خاکسار کی اہلیہ سے کیا جو خاکسار نے ان سے لکھوا لی۔وہ تحریر فرماتی ہیں کہ۔" آپ نے خواب جس کا ذکر آپ کی اہلیہ سے ہوا تھا، لکھنے کے لئے کہا ہے۔خواب میں نہیں قصر خلافت میں ایک نو تعمیر شدہ وسیع عمارت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو دکھائی جا رہی ہے۔میں بھی دیکھ رہی ہوں۔Dining Hall بہت وسیع تھا۔اس کے بعد ڈرائنگ روم دیکھا وہ بھی بہت وسیع و عریض تھا۔ایک خاص قسم کی محفوظ الماری اس میں تھی۔عمارت پر شکوہ لیکن سادہ تھی اور میں نے دل میں خیال کیا کہ چونکہ ہماری جماعت کا انداز سادہ ہی ہے اس لئے عمارت کی سجاوٹ میں بھی سادگی اختیار کی گئی ہے۔عمارت دکھائے جانے کے