حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 192 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 192

177 عرفان جمی رہی۔ایک دن مجھے پریشان سا دیکھ کر نہایت ہی بے تکلفی سے فرمانے لگتے۔۔۔" تمہیں پانچ سال قید ہو گی۔۔۔۔۔عرض کیا۔۔۔۔۔۔” میرے حق میں اس پاکیزہ منہ سے تو کلمہ خیر ارشاد فرمائیں ” فرمانے لگے " میرا ہے THINK OF THE WORST جیل میں میں نے آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی پریشان نہیں پایا بلکہ یوں محسوس ہو تا تھا کہ جیل میں اس مرد بحران کی صحت روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔میں نے مطلب ایک دن عرض کیا کہ چونکہ میری گرفتاری اچانک اور غیر متون میری بھوک پیاس ختم ہو گئی لہذا ناشتہ بھی نہ کر پایا۔۔۔۔فرمایا ”جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میں نے پہلے نہایت ہی اطمینان سے غسل کیا پھر سیر ہو کر ناشتہ کیا کیونکہ ایسے وقتوں میں مجھے خوب بھوک لگتی ہے اس کے بعد کپڑے تبدیل کئے۔۔۔۔ہر وقت خوش رہتے اور ہمیں خوش رکھنے کی کوشش فرماتے اور ہمارے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کرتے رہتے کہ یہ آزمائش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس میں کامیابی کے بعد ہم پر اللہ تعالی کی طرف سے انعامات کی بے شمار بارشیں ہوں گی لہذا ہمیں استقلال کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ ان لمحات کو مسکراتے ہوئے گزارنا چاہئے۔۔جمعہ کا دن تھا۔اس دن میری انٹیروگیشن (INTERRO GATION) تھی اور حضرت میاں صاحبان کی ٹرایل (TRIAL) تھی۔اس عاجز کی پردہ پوشی کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان فرمایا کہ اسی کار میں جس میں آپ کو سنٹرل جیل سے بورسٹل جیل میں لایا گیا اس عاجز کو بھی لایا گیا۔راستے میں حضور ہدایات دیتے رہے کہ کسی سے بھی فضول باتیں نہیں کرنی بلکہ کوشش کریں کہ کسی سے کوئی بات ہی نہ ہو نیز استغفار پر زور دیں گویا اپنے سے زیادہ میری