حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 191 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 191

176 چمٹا رہے ہیں۔" سنتے ہی آپ نے فرمایا کہ آپ تو انٹیروگیشن INTERRO GATION میں ہی رہا ہو جائیں گے مگر اس سے آگے آپ خاموش ہو گئے۔۔۔۔اتنے میں ناشتے کا وقت ہو گیا چنانچہ جیل سے ہمارا ناشتہ آگیا جو ابلے ہوئے چنوں کا تھا۔میں نے ان چنوں کی طرف کچھ ترچھی کی نگاہوں سے دیکھا کہ اب ہمیں یہ کھانے ہوں گے۔حضرت میاں صاحب فورا میرے چہرے کے تاثرات ہی سے میرے دل کی کیفیت اور میرا تردد بھانپ گئے اور فورا ان کو چادر پر ہاتھ سے بکھیرنے کے بعد انہیں خود مزے مزے لے لے کر کھانا شروع کر دیا۔آپ کھاتے بھی جاتے تھے اور فرماتے بھی جاتے تھے ” بشیر صاحب دیکھئے یہ تو بے حد لذیذ ہیں۔" اللہ ! اللہ ! آپ نے ہمیں کس۔کس طرح تکلیف کے ان دنوں کو حوصلہ اور بشاشت سے گزارنے کے آداب سکھائے۔ان کا ہاتھ دستر خوان کی طرف بڑھ جانے کے بعد بھلا کس کی مجال تھی جو نہ کھاتا۔۔۔۔غالبا اسی دن کی دوپہر سے حضرت اقدس کے گھر سے کھانا شروع ہو گیا جو اس قدر ہوتا تھا کہ ہم سب سیر ہو کر کھا لیتے تو پھر بھی بچ جاتا تھا۔یہاں بھی ہماری دلجوئی مد نظر رہی۔کھانا آتا تو آپ سارا کھانا میرے سپرد فرما دیتے اور فرماتے "ساقی صاحب اسے تقسیم کریں " اور خود میرے گھر سے آیا ہوا کھانا لے بیٹھتے کہ میں تو یہ کھاؤں گا۔جو نہایت ہی سادہ ہوتا تھا۔۔۔۔میرے اصرار کے باوجود میرا وہ سادہ سا کھانا حضور خود تناول فرماتے اور رتن باغ سے آیا ہوا کھانا ہم کھاتے۔حضور پر نور اور حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب جب تک ہمارے پاس رہے ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں اداس اور غمگین نہیں ہونے دیا اور ہمیں واقعات سنا سنا کر ہمارے حوصلے بلند فرماتے رہے گویا جیل میں بھی ہر روز مجلس علم و