حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 2
2 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کوئی کام دینی ہو یا دنیوی بغیر معاونت باہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔۔۔۔جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمهوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا۔" ( تبلیغ رسالت مجموعه اشتهارات جلد اول صفحہ ۳۶) حقیقت تو یہ ہے کہ اس کتاب کی تصنیف کے کام میں اس عاجز کے بہت سارے محسنوں کی راہنمائی اور معاونت کا دخل ہے۔سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ بیگم صاحبہ ثانی حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحب کی پرانی ڈائریوں کے صفحات مرحمت فرمائے اور کئی نایاب تصاویر عطا فرمائیں۔محترم سید میر مسعود احمد صاحب وکیل صد سالہ احمد یہ جوبلی اور ان کے نائب محترم شیخ مبارک احمد صاحب نے حضور کے بعض غیر مطبوعہ خطبات اور الفضل کے فائل مہیا فرمائے۔خلافت لائبریری ربوہ سے بھی خاکسار نے بہت استفادہ کیا اس سلسلہ میں محترم حبیب الرحمان صاحب زیروی خصوصی شکریے کے مستحق ہیں۔کئی احباب و خواتین نے واقعات لکھ کر دیئے۔ان کا فردا فردا ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔انشاء اللہ کتاب میں متعلقہ واقعہ کے ساتھ ان کا ذکر آ جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان سب محسنوں کو جزائے خیر دے اور اپنے فضلوں رحمتوں اور برکتوں سے نوازے۔آمین اس سلسلے میں اس عاجز کا خط و کتابت کے ذریعے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ رابطہ رہا اور حضور کی رہنمائی حاصل ہوتی رہی اور یہ حضور کی ہی روحانی توجہات اور دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ کتاب تکمیل اور اشاعت کے مراحل طے کرنے میں کامیاب ہوئی۔اللہ تعالیٰ حضور کا بابرکت سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے اور حضور کی صحت اور عمر میں برکت دے۔آمین۔اس موقع پر خاکسار اپنی والدہ محترمہ عزیزہ بیگم صاحبہ اور والد محترم فضل