حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 186
171 کرنے کا باعث ہوں گی اور احمدیوں کو خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان بے گناہوں کو قربانی کا موقعہ نصیب ہوا اور ایسی قربانیاں یقیناً احمدیت میں ایک دوامی زندگی پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں۔سکتی ہیں۔۴۹۰ مسکراتے ہوئے گرفتاری پیش کرنا آپ کی صاحبزادی امتہ الشکور بیان کرتی ہیں۔جب ۱۹۵۳ء کے فساد ہوئے تو ایک دن صبح ہی صبح فوج رتن باغ لاہور (جہاں ہمارا قیام تھا) پہنچ گئی۔فجر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا۔فرمانے لگے۔ان سے کہو انتظار کریں۔میں نماز پڑھ کر آیا۔امی ان دنوں بیمار تھیں اور ہسپتال داخل تھیں۔فوج کے آنے کی خبر بالکل پر سکون انداز میں اس طرح سنی جیسے پہلے ہی جانتے تھے۔خیر فوج نے تلاشی وغیرہ لی صرف ایک چھوٹا سا پرانا تاریخی خنجر اسے ملا جو کہ امی کو جہیز میں ملا تھا اور حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کے آباؤ اجداد کے وقت کا چلا آ رہا تھا۔اس پر ابا کو لے گئے۔بہت کڑا وقت تھا۔ابا نے کہا۔میں کپڑے بدل لوں تو چلتا ہوں۔فوج والا کمرے کے دروازہ پر کھڑا رہا۔میں حلمی۔(میری بہن امتہ الحلیم) اور میرے بھائی انس اور چھوٹا بھائی فرید ہم ایک لائن میں کھڑے تھے۔آنکھوں سے آنسو دل کی عجیب حالت۔ہمارے پاس آئے سب کو ملے پھر میرے چہرے پر تھپکی دے کر بولے۔"مسکراؤ مسکراؤ " وہ پہلا سبق تھا جو مشکل وقت میں مسکرانے کا ابا نے دیا۔آپ بھی مسکرا رہے تھے ہمیں بھی مسکرانے کا کہہ رہے تھے۔۵۰ تلاشی کے دوران ایک معجزہ ۱۹۷۹ء ۱۹۸۰۴ء کے زمانے کی بات ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے