حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 185
170 یہ کیفیت تو مرزا ناصر احمد اور آپ کے مقدمہ اور سزا کے متعلق ہے۔اب دوسرا واقعہ سنئے۔مرزا شریف احمد احمدی جماعت کے بانی اور مرزا غلام احمد کے صاحبزادے اور احمدی جماعت کے موجودہ پیشوا کے حقیقی بھائی ہیں۔یہ بزرگ جن کی عمر باسٹھ برس کی ہے لاہور میں بندوق سازی کے ایک کارخانہ کے مالک ہیں اور یہ کارخانہ پاکستان گورنمنٹ سے لائسنس حاصل کر کے جاری کیا گیا۔چنانچہ اس فرم کو ایک فوجی افسر نے نمونہ کے طور پر ایک کرچ دی کیونکہ پاکستان گورنمنٹ اس نمونہ کی کرچیں تیار کرانا چاہتی تھی اور اس کرچ کے متعلق جو خط و کتابت محکمہ فوج سے ہوئی وہ مرزا شریف احمد کے پاس موجود ہے جسے عدالت میں داخل کیا گیا مگر مرزا شریف احمد کو اس کرچ کے ناجائز رکھنے کے جرم میں ایک سال قید اور پانچ ہزار جرمانہ کی سزا دی گئی۔مارشل لاء کی فوجی عدالت نے ایسے مقدمات میں پانچ پانچ ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دینا تو خیر قابل در گزر ہے کیونکہ پاکستان اقتصادی بدحالی میں مبتلا ہے اور اس طریقہ سے روپیہ حاصل کر کے یہ ملک اپنے فوجی اخراجات کسی نہ کسی حد تک پورے کر سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اوپر کے دو مقدمات کو اگر کسی انصاف پسند عدالت یا غیر جانبدار ملک کے سامنے پیش کیا جائے تو پاکستان گورنمنٹ کی کیا پوزیشن ہو اور کیا دنیا کا کوئی معقولیت پسند شخص اس شرمناک دور استبداد کو برداشت کر سکتا ہے اور کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہبی پاگل پن میں پاکستان کے عوام کے علاوہ وہاں کے حکام بھی مبتلا ہیں جو چھری رکھنے کے جرم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو پانچ پانچ برس قید سخت کی سزا دے رہے ہیں۔اوپر کی سزاؤں کے متعلق ہم نے غور کیا ہے اور غور کرنے کے بعد ہماری رائے ہے کہ یہ سزائیں احمدی جماعت کی بنیادوں کو زیادہ مضبوط