حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 184 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 184

169 قید و بند کی حقیقت اس قید وبند کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے ایک اخبار کی یہ خبر پڑھنی ضروری ہے۔پچھلے دنوں اخبارات میں ایک اطلاع شائع ہوئی تھی کہ احمدی جماعت کے لاہور کے ہیڈ کوارٹر کی مارشل لاء کے حکام نے تلاشی لی اور وہاں سے اسلحہ سازی کا کارخانہ اور تیار شدہ اسلحہ ملا۔جس کے جرم میں احمدی جماعت کے پیشوا کے صاحبزادے اور بھائی کو مارشل لاء کے ماتحت پانچ اور ایک برس اور پانچ پانچ ہزار روپیہ جرمانہ کی سزائیں ہوئیں۔اس سلسلہ میں لاہور کے ایک دوست نے اصل حالات بھیجے ہیں جو یہ ہیں۔"احمدی جماعت کے موجودہ پیشوا کے بڑے لڑکے مرزا ناصر احمد صاحب آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایم اے ہیں اور آپ لاہور کے ٹی آئی کالج کے پرنسپل تھے اور آپ کی شادی موجودہ نواب مالیر کوٹلہ کے چچا کی صاحبزادی سے ہوئی اور جب شادی ہوئی تو آپ کے خسر نے آپ کو زیورات اور تحائف کے ساتھ ایک خنجر بھی دیا جس کا دستہ سنہری تھا اور جو مالیر کوٹلہ کے شاہی خاندان کی نادر اشیاء میں سے تھا۔قانون کے مطابق ہندوستان کے ہر والئے ریاست اور اس کے خاندان کے لوگ اسلحہ ایکٹ سے مستثنیٰ ہیں مگر لاہور کے مارشل لاء کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ جب تلاشی ہوئی تو یہ خنجر (جس کی پوزیشن ایکٹ اسلحہ کے مطابق بھی آلو، ساگ یا گوشت کاٹنے والی ایک چھری سے زیادہ نہ ہونی چاہتے تھے) بیگم مرزا ناصر احمد کے زیورات میں پڑا تھا جس کو فوجی حکام نے حاصل کر کے مرزا ناصر احمدہ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا اور آپ کو پانچ سال قید سخت اور پانچ ہزار روپیہ جرمانے کی سزا دی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجویٹ اور لاکھوں احمدیوں کے امام کا بیٹا لاہور کے سنٹرل جیل میں بطور قیدی کے اب بان بٹ رہا ہے۔"