حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 183 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 183

168 ۱۹۵۳ء میں قید و بند کے مصائب اور آپ کے ثبات قدم کا اعلیٰ نمونہ ۱۹۵۳ء کے ہنگاموں میں آپ کو اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو ظالمانہ طور پر قید کر لیا گیا۔اس وقت آپ تعلیم الاسلام کالج لاہور میں پرنسپل تھے اور رتن باغ لاہور میں آپ کی رہائش تھی۔یہ المناک حادثہ یکم اپریل کو پیش آیا جس سے دنیا بھر کے احمدی تڑپ کر رہ گئے۔اس موقعہ پر حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے یہ دردناک اشعار کہے۔چلاؤ کوئی جا کے مزار مسیح نصرت جہاں کی گود کے پالوں کو لے گئے تمہارے باغ میں داخل آقا ہوئے عدد گلزار احمدی کے نہالوں کو ے گئے روبه صفات دشمن بد ہیں و زور قیدی گئے بنا کے شیر مثالوں کو فکر لے جائے گرفت ہاتھ نہ آئی تو رحم سرشت لگا کے کے نیک خصالوں کو لے گئے فوجی عدالت سے آپ کو پانچ سال قید بامشقت اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو ایک سال قید بامشقت اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی لیکن خلیفہ وقت اور ساری جماعت کی مضطرب دعاؤں کی بدولت تقریباً دو ماہ کی قید و بند کے بعد ۲۸ مئی ۱۹۵۳ء کو دونوں اسیران راہ مولی کو رہا کر دیا گیا۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحبه حضرت ابا جان اور بھائی کی رہائی پر حضرت اقدس کا الہام رہا گوسفندان عالی جناب پورا ہوا 23 ۴۸