حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 181
166 کو تنبیہ کی گئی کہ اب اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا تو وہ ذاتی طور پر ذمہ دار مجھے جائیں گے اور سخت کارروائی کی جائے گی۔جب ریزولیوشن پاس ہو گیا تو خواتین کی کلب کی نمائندہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ ریزولیوشن درست نہیں۔سب نے یہی سمجھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کافی نہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اس میں ترمیم ضروری ہے اور وہ یہ کہ اس ریزولیوشن میں سے پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کا نام نکال دیا جائے کیونکہ ہمیں اس کالج کے طلباء سے کوئی شکایت نہیں۔چنانچہ اس کے مطابق ترمیم کی گئی اور اس ترمیم کے متعلق بعض اراکین نے حضور کی تعریف میں بھی کلمات کہے کہ وہ خود دریا پر تشریف لے جاتے ہیں۔۴۶۴ خدا تعالیٰ کی غیرت کا ایک واقعہ خلافت کے زمانہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے کالج کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی غیرت کا ایک واقعہ بیان فرمایا جو درج ذیل ہے:۔" خدا تعالیٰ اس جماعت کے جو چھوٹے چھوٹے شعبے ہیں ان کے لئے بڑی غیرت دکھاتا ہے۔ابھی میرے دوبارہ سفریورپ پر جانے سے پہلے اس خاندان کا ایک آدمی آیا جس کے بارہ میں میں بتایا کرتا ہوں کہ ان کا بڑا ہوشیار لڑکا تھا۔TOP کے نمبر لئے میٹرک میں۔ہمارا کالج لاہور میں تھا۔اس کے والد کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔وہ لڑکا ہمارے کالج میں داخل ہو گیا۔میں نے بڑے پیار سے اسے داخل کیا۔وہ میرے دوست کا بچہ تھا جو سیالکوٹ کے ایک گاؤں کے رہنے والے اور زمیندار تھے۔اس کے چند رشتہ دار غیر مبائع تھے انہوں نے لڑکے کے باپ کا دماغ خراب کیا۔اس سے کہنے لگے اتنا ہوشیار بچہ Superior Services کے Competition میں یہ پاس ہونے والا نہیں۔تم نے یہ کیا ظلم کیا اپنے بچے کو جا کر احمدیوں کے کالج میں