حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 178 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 178

163 بعد دور سے کوئی طالب علم آ رہا ہو تا تو رک جاتے اور پوچھتے۔بتاؤ کون آ رہا ہے۔میں عرض کرتا کہ خاکسار کی نظر کمزور ہے تو فرماتے۔اچھا قریب آجانے دو۔پھر قریب آنے پر مجھے خفت سے بچانے کے لئے اس طالب علم کو اس کے نام سے بلاتے وہ اس قرب پر باغ باغ ہو جاتا۔۲ صحت مند طالب علموں کے ساتھ آپ کلائی بھی پکڑتے تھے اور بعض دفعہ کالج میں داخلے کے وقت جو صحت مند طالب علم ہو تا اسے کلائی پکڑنے کا کہتے اور آپ کی پکڑی ہوئی کلائی کوئی چھڑا نہیں سکتا تھا۔طلباء کے کھیلوں میں پورا وقت دے کر ان کی عزت افزائی فرماتے۔چنانچہ چوہدری محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔" طلباء کے اجتماعات میں خواہ وہ کھیل ہوں یا مباحثے ، پنک ہو یا کوئی اور تقریب ، دلی نشاط سے شامل ہوتے اور خط اٹھاتے۔کشتی رانی کے میچوں میں تقریباً آدھ میل تک کشتی کے ساتھ ساتھ دوڑتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔دوسرے کالجوں کے طلباء ہم سے کہا کرتے تھے کہ کاش ہمارے پرنسپل بھی کھیلوں میں اتنی دلچسپی لیں۔ہوسٹل فنکشن میں حضور کی کار ولزلے پر مزاحیہ نظمیں پڑھی جاتیں۔بہت لطف اندوز ہوتے۔ایک مرتبہ عاجز نے ایسی نظموں اور لطیفوں پر پابندی لگا دی۔حضور کو علم ہوا تو ارشاد فرمایا کہ اگر یہ پابندی نہ اٹھائی گئی تو ہم فنکشن میں شامل نہیں ہوں گے۔چنانچہ پابندی اٹھائی گئی۔" ہی آپ کی صاحبزادی امتہ الحلیم صاحبہ بیگم صاحبزادہ مرزا مجیب احمد صاحب لکھتی ہیں۔کالج کے زمانہ میں ہزاروں قسم کے لوگ آتے۔بچوں کے داخلہ کے لئے۔ان میں سے بعض اکثر ایسے ہوتے جو بالکل جاہل اور گنوار قسم کے ہوتے باوجود یکہ وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ تھے لیکن بظاہر ہر تعلیم سے ناواقف نہ پہنے کا ہوش۔نہ بات چیت کا طریق۔لیکن ابا ان سے بہت پیار سے ملتے۔انہیں عزت اور احترام دیتے۔اپنے گھر بھی لاتے۔ان کے لئے کھانا تیار کرواتے اور خود ان کے ساتھ