حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 176 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 176

161 (Bumping boat race) کا فیصلہ کن مقابلہ تھا اور جیتنے والی ٹیم نے اس سال کی چمپین شپ حاصل کرنی تھی۔دریا پر اسلامیہ کالج کے طلباء بھی نعرے بلند کر رہے تھے۔ہمارے طلبہ بھی اپنی ٹیم کو حبذا کہنے کے لئے جمع تھے مگر فضا میں کدورت Tension تھی۔پرنسپل صاحب اسلامیہ کالج نے مائک پر اعلان کیا کہ اگر اسلامیہ کالج کی ٹیم نے ٹی آئی کالج کی ٹیم کو عپ کر دیا تو وہ اپنی ٹیم کو سو روپے انعام دیں گے۔اس پر پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج یعنی حضور رحمہ اللہ تعالی نے فورا مائک پر اعلان کروایا کہ اگر اسلامیہ کالج کی ٹیم نے تعلیم الاسلام کالج کی کشتی کو چپ کر دیا تو پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کی طرف سے بھی سو روپے اسلامیہ کالج کی ٹیم کو انعام دیا جائے گا۔اس پر اسلامیہ کالج کی طرف سے پر زور نعرہ بلند ہوا کہ پرنسپل ٹی آئی کالج زندہ باد۔جذبات کی کدورت Tension دور ہو گئی اور اخوت اور بھائی چارہ کے ماحول میں کشتی رانی کا فائنل مقابلہ ہوا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس اعلان نے اپنے کالج کی ٹیم پر بھی عجیب نفسیاتی جادو کر دیا۔ہماری ٹیم کو زبر دست احساس ہوا کہ ہمارے پرنسپل صاحب کو ہماری فتح پر کس قدر یقین ہے۔اس احساس نے ان کے اندر بجلی جیسی قوت اور جوش پیدا کر دیا اور جب مقابلہ ہوا تو چمپین شپ ٹی آئی کالج کے حصہ میں آئی۔دیکھئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر کو۔ایک ہی تدبیر کے وار سے دو فوائد حاصل کر لئے۔دونوں کی باہمی کدورت Tension کو بھی دور کر دیا۔دوسری طرف اپنی ٹیم کے اراکین میں مجنونانہ جوش ۲۲ عمل پیدا کر دیا۔آپ کی وجاہت اور رعب کا یہ عالم تھا کہ اہل پیغام بھی آپ کے احترام میں اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔چنانچہ مکرم پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب لاہور کے زمانے کا ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں۔