حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 168 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 168

153 کرے۔۳۳ لاہور کالج میں کھیلوں کا اجراء لاہور کالج میں کھیلوں کے بارے میں آپ نے اپنا نقطہ نظر ۱۹۵۱۴٬۶۱۹۵۰ء کی سالانہ رپورٹ میں یوں بیان فرمایا۔وو ایک نوزائیدہ مملکت اگر ترقی کی دوڑ میں ترقی یافتہ ممالک سے بازی لینا چاہتی ہے تو اس کے افراد پر سعی پیم اور مستقل جدوجہد کی بھاری ذمہ داری پڑتی ہے اور لگاتار محنت کرتے چلے جانا جذبہ ملی اور مضبوط و توانا جسموں کے بغیر ممکن نہیں۔تمام بیدار ممالک اپنی قوم کی صحت کی طرف خاص توجہ دیتے ہیں اور عام اندازہ کے مطابق ان ممالک کا جتنا بھی روپیہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے اسی کے لگ بھگ رقم وہ ورزشوں وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں۔اگر ہم نے بھی دنیا میں ترقی کرنی ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں۔بوجہ غربت ہم ان کے لئے پوری خوراک مہیا نہیں کر سکتے لیکن غربت کے باوجود بھی صحیح ورزش انہیں کروا سکتے ہیں۔یہ مہاجر ادارہ طلباء کے اس شعبہ زندگی کی طرف خاص توجہ دیتا رہا ہے۔بہت سے غریب بچوں کو مفت دودھ دیا جا رہا ہے اور عام طور پر یہ کوشش رہی ہے کہ تمام طلباء ورزش کے ذریعہ سے اپنے جسموں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔۳۴ ام جس کسمپرسی کی حالت میں تعلیم الاسلام کالج از سر نو شروع کیا گیا۔اس کا ذکر کیا جا چکا ہے کھیلوں کے لئے مانگی ہوئی گراؤنڈز میں کبڈی، بیڈ منٹن ، والی بال ، فٹ بال اور دریائے راوی پر روٹنگ شروع کی گئی اور اس طرح تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ کھیلوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جو طلباء کے لئے مساوی اہمیت کا درجہ رکھتی ہیں اور ذہنی نشو نما کی غذا ہے۔