حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 166
151 رہیں اور شعبہ کیمیا کے لئے ضروری سامان خرید کر کیمیا کے عملی تجربے اپنے کالج میں ہی شروع کروا دیئے گئے۔طبیعات کے لئے ہمیں ایم اے او کالج سے انتظام کرنا پڑا جن کے برادرانہ سلوک کے ہم ہمیشہ ممنون گے۔چونکہ ابھی اصل ہوسٹل پر قبضہ نہ ملا تھا اس لئے کالج کے ہی ایک حصہ کی مرمت کروا کے عارضی طور پر یہ ہوسٹل بنا دیا گیا جس میں اندازاً پچاس پچپن طلبہ کی گنجائش تھی جو وقتی طور پر کافی سمجھی گئی گو عملاً طلبہ اس سے بہت زیادہ آگئے جس کے نتیجہ میں ایک ایک کمرہ میں آٹھ آٹھ طلبہ کو رہنا پڑا۔" شاندار نتائج حضرت مصلح موعود نے ۱۹۴۹ء میں فرمایا :۔گزشتہ سال فسادات کی وجہ سے ہمارے کالج کے نتائج اچھے نہیں نکلے تھے گو اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کا نتیجہ غیر معمولی طور پر نہایت شاندار رہا۔۔۔۔۔اس سال ہمارے تعلیم الاسلام کالج کی ایک جماعت کا نتیجہ نوے فیصدی کے قریب رہا جو ایک حیرت انگیز امر ہے حالانکہ یونیورسٹی کی اوسط ۳۹ فیصدی ہے۔یہی حال اور جماعتوں کا ہے۔کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں جس کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے کم ہو بلکہ ہر جماعت کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے بڑھ کر ہے۔Flee جن حالات میں لاہور کالج کا آغاز ہوا۔ان کے پیش نظر اتنے اچھے نتائج کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔اس کے پیچھے خلیفہ وقت کی توجہات روحانیہ، پرنسپل صاحب کی اعلیٰ کار کردگی ، عزم و ہمت نیم شبانہ دعائیں اور آپ کے ساتھی پروفیسروں کے تعاون اور اعلیٰ درجہ کے اخلاص کی خاموش داستانیں محسوس ہوتی ہیں۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔