حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 165
150 دینی اور دنیوی ہر دو قسم کے علوم کا منبع مسجدیں ہوا کرتی تھیں جہاں اسلام کے علماء اور حکماء فرش پر بیٹھ کر اپنے ارد گرد گھیرا ڈالے ہوئے طالب علموں کو درس دیا کرتے تھے اور اس قسم کے درسوں کے نتیجہ میں بعض ایسے شاندار عالم پیدا ہوئے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج کی دنیا بھی ان کے علوم سے روشنی حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ٹی آئی کالج لاہور ڈی اے وی کالج کی بوسیدہ عمارت میں دسمبر ۱۹۴۷ء سے اپریل ۱۹۴۸ء تک کالج کینال پارک کے اصطبل نما احاطہ میں رہا اور اپریل ۱۹۴۸ء میں ڈی اے وی کالج لاہور کی بوسیدہ عمارت الاٹ ہوئی اور مئی میں کالج اس میں منتقل کر دیا گیا۔صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کے اپنے الفاظ میں اس کالج کی خستہ حالت کا ذکر سنئے۔" ۱۹۴۷ء ۱۹۴۸ء کو ہم بے سروسامانی کا سال کہہ سکتے ہیں اور جن نوجوانوں نے اپنے کالج کے اس نازک ترین دور کو ہمت اور بشاشت سے گزارا وہ یقیناً قابل قدر ہیں خاصی تگ و دو کے نتیجہ میں کالج کی آباد کاری کے لئے ڈی اے وی کالج کے کھنڈرات پر ہمیں قبضہ ملا۔ان عمارتوں کو غیر مسلم پناہ گزیں کلی طور پر تباہ و برباد کر چکے تھے۔دروازوں کے تختے اور چوکھٹیں، روشندان، الماریاں وغیرہ ہر قسم کا فرنیچر غائب تھا۔عمل گاہوں میں ٹوٹی شیشیوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کے سوا کچھ موجود نہ تھا۔پانی اور گیس کے نل ٹوٹے ہوئے پڑے تھے۔تمہیں چالیس ہزار کتابوں پر مشتمل مشہور کتب خانے کی اب ایک جلد بھی باقی نہ تھی۔یہ وہ کھنڈر تھے جن میں مئی ۱۹۴۸ء میں ہم آباد ہوئے اور ہماری فوری توجہ ان ضروری اور ناگزیر مرمتوں کی طرف منعطف ہوئی۔چنانچہ شروع میں گیس پلانٹ کو درست کروایا گیا