حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 164 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 164

149 گئے۔آپ کے منجملہ اور کارناموں میں سے یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ان ایام میں کالج کی حالت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔سے " آج مجھے اتفاقاً اپنے تعلیم الاسلام کالج آف قادیان حال لاہور کو چند منٹ کے لئے دیکھنے کا موقع ملاب ہمارا ڈگری کالج جو موجودہ فسادات سے قبل قادیان کی ایک وسیع اور عالی شان عمارت میں اپنے بھاری ساز و سامان کے ساتھ قائم تھا وہ اب لاہور شہر سے کچھ فاصلے پر نہر کے کنارے ایک نہایت ہی چھوٹی اور حقیر سی عمارت میں چل رہا ہے۔اس عمارت کا نچلا حصہ قریباً قریباً ایک اصطبل کا سا رنگ رکھتا ہے اور اوپر کی منزل چند چھوٹے چھوٹے کمروں پر جو نہایت سادہ طور پر بنے ہوئے ہیں پر مشتمل ہے۔عمارت کی قلت اور کمروں کی کمی کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ ایک ہی عمارت سے کالج اور بورڈنگ کا کام لیا جا رہا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کے استعمال میں ہے اور باقی کمروں میں بورڈر رہائش رکھتے ہیں جن میں سے بعض چار پائیاں نہ ہونے کی وجہ سے فرش پر سوتے ہیں اور بڑی تنگی کے ساتھ گزارہ کر رہے ہیں لیکن بایں ہمہ میں نے سب بورڈروں کو ہشاش و بشاش پایا جو اپنے موجودہ طریق زندگی پر ہر طرح تسلی یافتہ 1 اور قانع تھے۔۔۔مگر جس چیز نے میرے دل پر سب سے زیادہ اثر کیا وہ کالج کی کلاسوں کی حالت تھی۔۔۔۔۔۔موجودہ عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کی ضروریات کے لئے فارغ کیا جا سکتا ہے اس لئے باقی کلاسیں برآمدوں میں یا کھلے میدان میں۔ان سب کا یہ حال ہے کہ چونکہ کوئی ڈیسک اور کوئی میز کرسی نہیں اس لئے پڑھانے والے اور پڑھنے والے ہر دو چٹائیاں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔مجھے اس نظارہ کو دیکھ کر وہ زمانہ یاد آیا کہ جب