حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 163
148 ہجرت پاکستان اور بے سروسامانی کے عالم میں کالج کا لاہور میں قیام ابھی تعلیم الاسلام کالج قادیان کے اجراء کو تین سال ہی ہوئے تھے کہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہو گئی۔حضرت مصلح موعود بنا الی ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء کو قادیان سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لے آئے۔مرکز کی حفاظت اور احمدی آبادی کے انخلاء کے سلسلہ میں عظیم الشان خدمات سرانجام دینے کے بعد صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو خلیفہ وقت کی طرف سے پاکستان آ جانے کا ارشاد ہوا چنانچہ آپ ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو قادیان سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لائے اور اپنے بزرگ والد اور خلیفہ وقت کے ساتھ رتن باغ میں قیام فرمایا۔ابھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب حفاظت مرکز اور احمدی آبادی کے انخلاء کے سلسلہ میں قادیان میں ہی تھے کہ حضرت مصلح موعود بنی اللہ نے کالج کو جلد از جلد پاکستان میں از سر نو قائم کرنے کا فیصلہ فرمایا چنانچہ کالج کے از سر نو قیام کے لئے تگ و دو شروع ہو گئی لیکن کالج کے فوری اجراء کے لئے کوئی مناسب جگہ ملنے میں جب دشواری پیش ہوئی تو معاملہ حضرت مصلح موعود بھی الیہ کی خدمت میں پیش کیا گیا حضور نے قائمقام پر نسپل چوہدری محمد علی صاحب کو فرمایا۔آسمان کے نیچے پاکستان کی سر زمین میں جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو اور کالج شروع کرو۔" ابھی تلاش جاری تھی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ وقت کے ارشاد پر ۱۶۔نومبر ۱۹۴۷ء کو ہجرت کر کے لاہور تشریف لائے اور کینال پارک لاہور کی ایک نہایت بوسیدہ عمارت (جو ڈیری فارم یا اصطبل بن چکی تھی) کو محکمہ بحالیات سے حاصل کر کے نہایت بے سروسامانی کی حالت میں اس میں تعلیم الاسلام کالج کی کلاسیں شروع کر دیں۔ابتدائی دنوں میں کوئی ڈیسک وغیرہ نہ تھے۔طلباء نے صفوں پر بیٹھ کر کلاسیں شروع کیں۔ابتداء میں تو راتیں بھی صفوں پر ہی لیٹ کر کٹتی تھیں لیکن آپ کی ہمت اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کے باعث آپ دوبارہ کالج کو چلانے میں کامیاب ہو "