حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 145
130 ان کی ہر قسم کی ضروریات کا خیال رکھتے۔کسی کو وظیفہ دلواتے۔کسی کو بحالی صحت کے لئے اپنے ساتھ صحت افزاء مقامات پر لے جاتے اور کئی کئی ماہ اپنے پاس رکھتے۔بعض اوقات ہوسٹل کے MESS میں شکار کا گوشت بھجواتے۔طلباء کے لئے کتب کا بندوبست کرتے۔غرضیکہ آپ کا سلوک ایک باپ کی طرح شفقت و محبت سے بھرا ہوا ہو تا تھا۔اس قسم کے چند واقعات بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔آپ کے شاگرد مکرم حکیم خورشید احمد صاحب بیان کرتے ہیں:۔” والد مرحوم کی وفات کے بعد مجھے تعلیم جاری رکھنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ کی شفقت اور سرپرستی کی وجہ سے تعلیمی عرصہ بے فکری سے گزر گیا۔آپ نے از خود مجھے بتائے بغیر صدر انجمن احمدیہ سے میرے لئے آٹھ روپے ماہوار وظیفہ منظور کروایا اس سے مجھے بہت سہارا ہوا۔ان دنوں آٹھ روپے ماہوار مجھ جیسے غریب اور بے سہارا طالب علم کے لئے بہت غنیمت تھے۔9 آپ کے ایک اور شاگرد رشید مولوی غلام باری سیف بیان کرتے ہیں:۔جب آپ جامعہ کے پرنسپل مقرر ہوئے سلسلہ کی مالی حالت کوئی خاص اچھی نہ تھی۔جامعہ میں کوئی روزانہ اخبار نہ آتا تھا۔آپ نے تحریک جدید کو لکھ کر ہم واقفین طلباء کے لئے اخبار لگوا دیا۔اس وقت مبلغین کلاس میں صرف ہم چار واقفین ہی زیر تعلیم تھے۔اس کا بل تحریک ادا کرتی تھی آپ نے اپنی کئی بیش قیمت کتب بھی جامعہ کی لائبریری کے لئے مرحمت فرما دیں۔ان میں سے ابو الفرج کی کتاب الاغانی جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے یہ کتاب قادیان میں صرف آپ کی لائبریری میں تھی مگر آپ نے ایسی نایاب کتاب کو جامعہ کی لائبریری میں دے دیا۔لہ مولوی غلام باری صاحب سیف لکھتے ہیں:۔"جامعہ کے ہوسٹل میں دوسرے ہوسٹلوں کی طرح ایک وقت دال