حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 138 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 138

123 کچھ عجیب سی کیفیت محسوس کی کیونکہ وہ علوم جو میرے دماغ میں اب تازہ نہیں رہے تھے وہی علوم پڑھانے پر مقرر کر دیا گیا اور میں نے دل میں کہا کہ اللہ خیر کرے اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر نبھا سکوں تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مجھے جامعہ احمدیہ کا پر نسپل بنا دیا گیا۔اس وقت مجھے اللہ تعالیٰ کے پیار اور حسن کا عجیب تجربہ ہوا وہ یہ کہ مولوی فاضل میں ایک پر انا فلسفہ دنیا کے متعلق انسانی دماغ جس طرح سوچتا رہا، وہی فکر و تدبر (بالفاظ دیگر (فلسفہ) جن کتابوں میں درج کیا جاتا ہے وہی مولوی فاضل کے کورس میں شامل تھیں۔اب دنیا بدل چکی۔حقیقتیں نئے رنگ میں ہمارے سامنے آگئیں۔اس لئے اس زمانہ کے انسانی دماغ کی سوچ ہمارے دماغ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن ان کو بطور حقائق کے پڑھایا جاتا تھا۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اس پرچہ کو جامعہ میں مشکل ترین پرچہ سمجھا جاتا تھا اور اکثر طلباء اس پرچہ میں فیل ہو جاتے تھے۔اپنے طالب علمی کے زمانہ میں بڑا پریشان ہوتا تھا اور کڑھتا تھا کہ ایک چیز جو مشکل نہیں اسے مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔کیونکہ اگر آج آپ کسی بچے کو یہ کہیں کہ آسمان ٹھوس ہے اور اس میں ستارے اس طرح ٹکے ہوئے ہیں جس طرح ایک دلہن کے دوپٹے پر سونے کے ستارے لگے ہوتے ہیں تو اگرچہ کتابی علوم پر اس بچے کو اتنا عبور نہ ہو لیکن جس ماحول میں وہ پیدا ہوا اور اس نے پرورش پائی اس کی وجہ سے اس بچے کا دماغ بھی ان باتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔میں حیران ہو تا تھا کہ یہ ذرا سی مشکل ہے اور اس کے لئے تھوڑے سے زاویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن استاد اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔چنانچہ جب میں پرنسپل بنا تو یہ پڑھانے کا ذمہ میں نے خود لے لیا۔ہمارے۔