حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 116 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 116

101 ایک اور آدمی آ بیٹھتا ہے جس کے پاس اخبار نہیں جب گاڑی کھڑی ہوتی ہے وہ پلیٹ فارم پر جا کر اپنے لئے وہی اخبار خرید کے لاتا ہے وہ نہیں اٹھاتا جو اس کی سیٹ کے اوپر پڑا ہوا ہے۔۲۰۴ وہاں کے طلباء جتنی محنت کرتے ہیں اسے آپ نے خاص طور پر نوٹ فرمایا اور ایک مرتبہ فرمایا:۔" آکسفورڈ میں اچھا طالب علم وہ سمجھا جاتا تھا جو کلاس ورک کے علاوہ بارہ گھنٹے سٹڈی کرتا تھا یعنی کلاس روم کے علاوہ بارہ گھنٹے سٹڈی کرنے والا اچھا طالب علم اور آٹھ گھنٹے سٹڈی کرنے والا درمیانہ طالب علم اور جو کلاس ورک کے علاوہ پانچ گھنٹے سٹڈی کرتا تھا اس کے متعلق وہ کہتے تھے کہ پتہ نہیں یہ یہاں کیوں آگیا ہے ؟ اسے پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے مگر ہمارے ہاں اچھا طالب علم شاید اسے سمجھا جاتا ہے جو روزانہ پانچ گھنٹے اوسط بناتا ہے لیکن وہاں انہوں نے وقت مقرر کیا ہوتا ہے کہ آٹھ یا دس گھنٹے یا بارہ گھنٹے پڑھائی ضرور کرنی ہے۔آپ کو جرمنی جانے کا بھی کئی بار موقع ملا اور اس قوم کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے 271ee آپ نے فرمایا:۔” میں جب پڑھا کرتا تھا تو ایک دفعہ میں جرمنی میں سفر کر رہا تھا۔اس زمانے میں ہٹلر کی حکومت تھی جو کہ بڑا سخت ڈکٹیٹر تھا۔وہاں مجھے کسی سے یہ علم ہوا کہ اگر رات کو آٹھ بجے کے بعد کوئی گھر والا اونچی آواز سے ریڈیو چلائے تو اگر اس کا ہمسایہ شکایت کر دے کہ اس نے مجھے سونے نہیں دیا اور میرے آرام میں مخل ہوا ہے تو قانون فوراً حرکت میں آجاتا ہے اور اگلے دن صبح پولیس پہنچ جاتی ہے۔دوسروں کا خیال رکھنا قانون اور معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔۶۲ اسی زمانہ میں آپ نے جرمنی میں ایک رویا دیکھی جس کا ذکر آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں ۱۹۶۷ء میں سفر جرمنی کے دوران فرمایا۔