حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 115 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 115

100 زندگیوں میں تضاد پیدا کیا جاتا ہے میں پرنسپل بھی رہا ہوں اور میں آکسفورڈ میں بھی پڑھتا رہا ہوں۔میں نے وہاں جو حالات دیکھے میری خواہش تھی کہ حصول تعلیم کے متعلق اسی طرح کے خیالات یہاں بچوں کے لئے بھی پیدا کئے جائیں اب ہمارے یہاں کے حالات یہ ہیں کہ ہوسٹل میں ہمارا ایک بچہ رہتا ہے دھوبی اس کے کپڑے لے جاتے ہیں جب وہ کپڑے دھو کر واپس لاتا ہے تو قمیض کے بٹن غائب ہوتے یا جو جراب صحیح سلامت تھی وہ پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔بعض طبیعتیں ایسی ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ کپڑے آئے چنانچہ انہیں کچھ وقت دھوبی سے جھگڑا کرنے پر ضائع کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔آکسفورڈ میں مجھے کئی مہینے تک یہ پتہ نہیں لگا کہ کون کس وقت میرے کپڑے لے جاتا ہے اور کس وقت وہاں کپڑے واپس رکھ دیئے جاتے ہیں۔پتہ ہی نہیں لگتا کیونکہ وہاں کمرے بند کرنے کا رواج نہیں ہے اور نہ ہمارے پاس چابیاں تھیں بلکہ بارہ بارہ ہفتے کی جو چھٹیاں ہیں ان میں بھی چیزیں اسی طرح چھوڑ کر کمرے کھلے چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔۵۹۔ایک اور اچھی عادت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔” جب میں آکسفورد میں پڑھا کرتا تھا اس وقت کی میں بات بتا رہا ہوں۔تھرڈ کلاس میں سوار ہو جائیں مزدروں سے بھری ہوئی گاڑی پر۔ہر آدمی کے ہاتھ میں اخبار پکڑا ہوا ہے وہ اخبار پڑھ رہا ہے۔ساڑھے تین سالہ طالب علمی کا زمانہ جو میں نے وہاں گزارا ہے اس میں کسی ایک آدمی کو دوسرے سے اخبار مانگ کر پڑھتے نہیں دیکھا۔مانگتا ہی کوئی نہیں اپنا اخبار خریدتا ہے ہر شخص۔پھر راہ میں یوں پھینک دیتا ہے وہ۔ان کے اخبار پھینکنے کے قابل ہیں لیکن پڑھنے کے قابل بھی ہیں جو پڑھنا ہوتا ہے اس نے وہ پڑھ لیتا ہے پھر پھینک دیتا ہے۔ایک شخص اخبار پڑھ کر اپنی سیٹ پر چھوڑ کے اسٹیشن پر اتر جاتا ہے۔وہاں