حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 113
98 رکھا کہ حلال اور طیب غذا کھائیں۔آپ نے خود ایک مرتبہ فرمایا۔”جب میں آکسفورڈ گیا تو مجھے یہ خیال تھا کہ کہیں کالج والے مجھے غلط قسم کے کھانے نہ دیں۔چنانچہ میں پہلے ہی دن باورچی خانہ میں گیا جو بہت بڑا تھا اور سب سے بڑے باورچی سے جا کر کہا کہ ایک تو میں گوشت نہیں کھاؤں گا کیونکہ وہاں ذبیحہ نہیں ملتا اور دوسرے تم جو مچھلی اور انڈا میرے لئے پکاؤ اس کو چربی میں نہ پکانا مکھن میں پکانا وہ باروچی مسکرایا اور کہنے لگا کہ غریب طالب علم یہاں پڑھنے کے لئے آتے ہیں وہ سور کی چربی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے یعنی ان کی مالی حالت بھی ایسی نہیں ہوتی کہ ہم ان کے لئے سور کی چربی خرید کر کھانا پکائیں اور ان سے پیسے لے لیں۔آپ نے اپنی تعلیم کے دوران نہ صرف یہ کہ بہترین طالب علم بن کر دکھایا بلکہ اسلام کی صحیح ترجمانی کی اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیا چنانچہ آپ اپنے ایک پروفیسر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" آکسفورڈ میں پہلی ٹرم میں لاطینی وغیرہ زبانوں کا امتحان بھی پاس کرنا پڑتا ہے اور چونکہ غیر ملکی طلباء لاطینی وغیرہ کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہوں نے فارسی، عربی اور سنسکرت زبانوں میں سے کوئی ایک زبان لینے کی سہولت دی ہے۔میں نے سہولت کی وجہ سے عربی زبان لی اور یہ صاحب (مار گو لیتھ ) وہاں عربی پڑھایا کرتے تھے۔غالباً دوسرا یا تیسرا دن تھا کہ اسے اسلام پر حملہ کرنے کا پہلا موقع ملا اور اس نے اسلام پر اعتراض کیا۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب بھی وہ اسلام یا محمد رسول اللہ میں کیا کہ ہم پر اعتراض کرے گا میں اس کا جواب دوں گا چنانچہ جب اس نے اعتراض کیا تو میں کھڑا ہو گیا اور کہا آپ نے جو استدلال کیا ہے وہ قرآن کریم کی فلاں آیت یا فلاں حدیث کے خلاف ہے۔ان لوگوں اور خاص طور پر آکسفورڈ کے استادوں کا یہ