حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 111
96 رض پہنچے ہوئے تھے حضرت المصلح الموعود نے ایک لمبی اجتماعی دعا کے ساتھ بعد از شرف معانقہ رخصت فرمایا:۔آپ کے الوداع کے لئے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک دعائیہ نظم لکھی جس کے چند اشعار یہ ہیں:۔جاتے ہو میری جان، خدا حافظ و ناصر اللہ نگہبان خدا حافظ و ناصر ہر گام پہ ہمراہ رہے نصرت باری ہر لمحہ و ہر آن خدا حافظ و ناصر والی بنو امصار علوم دو جہاں کے اے یوسف کنعان! خدا حافظ و ناصر ہر علم سے حاصل کرو عرفان الهی بڑھتا رہے ایمان خدا حافظ و ناصر پہرہ ہو فرشتوں کا قریب آنے نہ پائے ڈرتا رہے شیطان خدا حافظ و ناصر ہر بحر کے غواص بنو لیک بایں شرط بھیگے نہیں دامان خدا حافظ و ناصر سر پاک ہو اغیار سے، دل پاک نظر پاک اے بندہ سبحان! خدا حافظ و ناصر حقیقی کی "امانت" سے خبردار اے حافظ قرآن" خدا حافظ و ناصر محبوب رض الفضل ۱۱/ ستمبر ۱۹۳۴ء ص ۲) آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے Balliol کالج میں داخلہ لیا اور پولٹیکل سائنس P۔P۔E یعنی فلسفہ اور اکنامکس کے مضامین رکھے اور پہلی ٹرم میں عربی کا مضمون بھی پڑھا۔یہ کورس ماڈرن گریڈ کہلاتا ہے جس میں آپ نے (B۔A(Hos کیا۔۴ جولائی ۱۹۳۶ء کو عارضی طور پر چھٹیوں میں واپس آئے۔ان دنوں حضرت مصلح موعود دھرم سالہ مقیم تھے۔حضرت مصلح موعود نے آپ کو اور سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کو اپنے پاس بلایا۔قریباً ڈیڑھ دو ماہ آپ حضرت مصلح موعود کے پاس رہے اور چھٹیاں گزار کر ۱۷ ستمبر ۱۹۳۶ء کو انگلستان روانہ ہو گئے۔واپسی پر آپ نے چند ماہ مصر میں عربی زبان بولنے کی مشق کے لئے قیام فرمایا اور ۹ نومبر ۱۹۳۸ء کو واپس قادیان پہنچے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے دستور کے مطابق سات ٹرم یعنی تقریباً ساڑے تین سال بعد آپ کو گھر پر پرچے بھجوائے گئے جنہیں آپ نے حل کر کے بھیجوایا اور ۱۹۴۱ء میں آپ کو ایم اے آنرز کی ڈگری بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کی رض