حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 101
86۔غفلت کرتا ہے۔متکبر ہے۔اور اپنے آقا سے کبر کرتا ہے وہ اس قابل نہیں۔کہ کوئی شریف آدمی اسے منہ لگائے۔دعا اس کا نام نہیں۔کہ انسان منہ سے کہہ دے۔اور سمجھ لے۔کہ دعا ہو گئی۔دعا پگھل جانے کا نام ہے موت اختیار کرنے کا نام ہے۔تذلل اور انکسار کا مجسم نمونہ بن جانے کا نام ہے۔جو یونہی منہ سے بکتا جاتا ہے اور تذلل اور انکسار کی حالت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔جس کا دل اور دماغ اور جس کے جسم کا ہر ذرہ دعا کے وقت محبت کی بجلیوں سے تھر تھرا نہیں رہا ہوتا۔وہ دعا سے تمسخر کرتا ہے۔وہ اپنا وقت ضائع کر کے خدا تعالیٰ کا غضب مول لیتا ہے۔پس ایسی دعا مت کرو۔جو تمہارے گلے سے نکل رہی ہو۔اور تمہارے اندر اس کے مقابل پر کوئی کیفیت پیدا نہ ہو۔وہ دعا نہیں الہی قہر کے بھڑ کانے کا ایک شیطانی آلہ ہے۔جب تم دعا کرو۔تو تمہارا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کے جلال کا شاہد ہو۔تمہارے دماغ کا ہر گوشہ اس کی قدرتوں کو منعکس کر رہا ہو۔اور دل کی ہر کیفیت اس کی عنایتوں کا لطف اٹھا رہی ہو۔تب اور صرف تب تم دعا کرتے ہو۔یہ کیفیت بظا ہر مشکل معلوم ہوتی ہے۔مگر جس کے ایمان کی بنیاد عشق الہی پر ہو۔اس کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی شے نہیں۔بلکہ اس کی طبیعت کا تو یہ کیفیت خاصہ بن جاتی ہے۔اور وہ ہر وقت اس سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے۔ایسے انسان کو یہ ضرورت نہیں ہوتی۔کہ وہ ضرور الگ جا کر مُصَلَّی پر بیٹھ کر دعائیں کرے۔وہ خلوت و جلوت میں دعا کر رہا ہوتا ہے۔اور جب اس کی زبان پر اور اور کلام جاری ہوتے ہیں۔اور اس کی آنکھ کے آگے اور اور نظارے پھر رہے ہوتے ہیں۔اس کی روح اپنے مالک و خالق کے عقبہ رحمت پر گری ہوئی اپنے لئے اور دنیا کے لئے طلب گار رحمت ہو رہی ہوتی ہے۔