حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 696 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 696

646 تحریک فرمائی اور اعلان کرتے وقت اس جانب رخ فرمایا جہاں سٹیج پر غیر ملکی افراد کے احاطہ میں کرسیوں پر جناب رشید جان صاحب اور افغان مہاجرین کے ایک لیڈر تشریف فرما تھے۔وو جنگی قیدیوں کے لئے صد ریاں اور رضائیاں ۱۹۷۱ء میں پاکستان و ہندوستان کی جنگ کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ اپنا سالانہ جلسہ جو دسمبر میں ہوا کرتا ہے منعقد نہ کر سکی لیکن احمدی خواتین دوران جنگ اور جنگ کے بعد ہر جگہ دفاعی اور رفاہی کاموں میں مصروف رہیں۔پاکستان جس بحران میں سے گزرا انتہائی ضرورت تھی کہ پاکستان کا ہر شہری اور پاکستان کی ہر تنظیم ان مجاہدین کی خدمت دامے درمے، قلمے کرتی جو وطن کی حفاظت کر رہے تھے چنانچہ حضرت خلیفة المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ اماء اللہ ربوہ کو افواج پاکستان کے لئے روٹی کی صد ریاں تیار کرنے کا ارشاد فرمایا:۔۳۱ جنوری (۱۹۷۲ء) کو صد ریاں بنانے کا کام شروع کیا گیا۔اس کام کی نگران اعلیٰ صدر لجنہ اماء اللہ ربوہ محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ تھیں جن کی سرکردگی میں ربوہ کے ہر محلہ کی ہر اس عورت نے جو کچھ نہ کچھ کام کر سکتی تھی اس خدمت میں حصہ لیا۔۔۔۔۲۵ دن کے عرصہ میں چھ ہزار دو صد بیس (۶۲۲۰) صد ریاں تیار کر دی گئیں پھر بعد میں اور کپڑا ملنے پر مزید صدریاں تیار کی گئیں۔جن کی کل تعداد ۱ ۸۷۵ بنتی ہے۔سیلاب زدگان کی امداد مشرقی پاکستان کثرت کے ساتھ سیلابوں کی زد میں آتا رہا ہے۔متعدد موقعوں پر حضور نے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے معقول رقم جماعتی بیت المال سے بھجوائی اور