حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 29 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 29

229 29 میں شادی کے بعد حضرت اماں جان کے ساتھ رہی حضرت مرزا ناصر احمد کو قادیان میں اپنی کو ٹھی ”النصرت" میں رہتے تھے لیکن قریباً روزانہ ہی اماں جان کے ہاں آیا کرتے تھے۔جمعہ والے دن تو صبح ہی سے آ جاتے تھے اور ہم سب مل کر کھانا کھاتے۔اماں جان خاص طور پر کہتیں۔آج میاں ناصر اور منصورہ سارے دن کے لئے آ رہے ہیں فلاں فلاں کھانا تیار کر لو فلاں چیز ناصر احمد کو بہت پسند ہے۔" سکه پاکستان ہجرت کے بعد جب آپ ربوہ منتقل ہوئے تو وہاں بھی آپ کا یہی دستور رہا۔بعض اوقات عصر اور مغرب کے درمیان آپ کار پر حضرت اماں جان کو سیر کروانے احمد نگر کے قریب اپنے باغ میں لے جاتے۔احمد نگر کے ایک نو احمدی دوست ملک اللہ یار صاحب نے خاکسار سے بیان کیا کہ جب ربوہ آباد ہوا اور جامعہ احمدیہ ابھی احمد نگر میں تھا جب کہ وہ ابھی بچپن کی عمر میں تھے اور احمدی بھی نہیں ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں۔جب بھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب لاہور سے ربوہ تشریف لاتے تو حضرت اماں جان کو عصر اور مغرب کے دوران آپ اکثر حضرت مصلح موعود کے باغ میں سیر کے لئے جاتے۔ملک صاحب کا بیان ہے کہ وہ اور کئی دوسرے بچے وہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو احمدیوں کی ماں آئی ہوئی ہے۔بنیادی تعلیم - حفظ قرآن اور مولوی فاضل صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی تعلیم کا آغاز قرآن کریم سے ہوا۔آپ نے پہلے قرآن کریم ناظرہ پڑھا اور ۲۴ فروری ۱۹۱۷ء کو آپ کے ختم قرآن پر آمین کی تقریب منعقد ہوئی۔9 ناظرہ پڑھنے کے بعد آپ نے قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا اور ۱۷ مارچ ۱۹۲۲ء کو بارہ تیرہ برس کی عمر میں آپ نے حفظ قرآن کریم مکمل کر لیا۔آپ نے ناظرہ قرآن کریم محترم قاری یاسین صاحب سے پڑھا۔آپ قرآن کریم