حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 439
384 مارچ ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔گزشتہ رات میں نے جماعت کی ترقی اور احباب جماعت کے لئے بھی دعا کی بہت توفیق پائی۔صبح جب میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر یہ فقرہ تھا کہ ”اینا دیواں گا کہ توں رج جاویں گا۔" تیسرا سال (۱۹۶۷ء) ۱۹۶۷ء میں حضور نے تعمیر بیت اللہ کے تئیس عظیم الشان مقاصد کے عنوان سے متعدد خطبات دیئے اور جماعت کی نہایت حکیمانہ طریقے سے تربیت فرمائی، اسی سال حضور نے یورپ کا پہلا دورہ فرمایا اور لندن، گلاسکو، کوپن ہیگن (ڈنمارک) اوسلو (ناروے) سٹاک ہالم (سویڈن) کے مشنوں کا معائنہ فرمایا اور کوپن ہیگن میں مسجد کا افتتاح فرمایا، حضور نے یورپ میں تبلیغ کی وسعت کا جائزہ لینے کے علاوہ وانڈز ورتھ ٹاؤن ہال لندن میں ”امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ" کے عنوان سے ایک معرکتہ الاراء خطاب فرمایا جس سے حضرت مسیح موعود کا ایک رویا پورا ہوا جس میں حضور نے دیکھا تھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔" (ازالہ اوہام ص ۵۱۵ طبع اول) نیز حضور نے حضرت مسیح موعود کے اس چیلنج کا پھر اعادہ فرمایا۔جس میں توریت اور انجیل کا قرآن کریم کی صرف ایک سورۃ سورہ فاتحہ" کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے عیسائیوں کو دعوت دی گئی ہے نیز حضور نے عیسائیوں کو قبولیت دعا کا مقابلہ کرنے کا بھی چیلنج دیا اس چیلنج اور دعوت کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور اسے عیسائی پادریوں تک پہنچایا گیا۔ہالینڈ میں ایک پریس کانفرنس میں جب حضور سے یہ سوال کیا گیا کہ جماعت اب تک وہاں کتنے مسلمان بنا چکی ہے تو حضور نے ایک نہایت مسکت جواب دیا اور فرمایا :۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ساری عمر جتنے عیسائی بنائے تھے اس سے زیادہ