حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 349
334 واپس آنے پر رپورٹ طلب فرمائی۔اپنے زمانہ خلافت کے دوران اپنے سابقہ تجربات کی بنا پر آپ نہایت قیمتی نصائح سے نوازتے رہے اور جلسہ سالانہ سے پہلے ہر سال ایک خطبہ جمعہ بطور خاص جلسہ سالانہ کے انتظامات اور ربوہ کی صفائی اور تزئین کے متعلق ارشاد فرماتے رہے اور بڑے اہتمام سے جلسہ سالانہ کے انتظامات کے آغاز پر جب رضا کار ہفتے دو ہفتے قبل ہی حاضر ہو جایا کرتے تھے آپ افتتاح فرماتے ، نصائح فرماتے اور دعا کرواتے اور ہر شعبہ کے ناظم سے مصافحہ فرماتے اور پھر افسر جلسہ سالانہ کے دفتر میں تشریف لے جاتے اور انتظامات کا معائنہ کرتے اور قیمتی ہدایات سے نوازتے۔آپ جلسہ سالانہ کے امور کو اس لئے خاص اہمیت دیتے تھے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کے دسمبر ۱۸۹۲ء کے اشتہار میں فرمایا تھا۔" اس جلسہ کو معمولی انسانی جلتوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔"" یہ اللہ تعالی کی عجیب شان ہے کہ بیرون ممالک کے وفود کی جلسہ سالانہ ربوہ میں با قاعدہ شمولیت بھی آپ کے زمانہ خلافت میں شروع ہوئی۔اس کے نتیجے میں انتظامات میں جو وسعت پیدا ہوئی اس کا ابتدائی انتظامات سے موازنہ کرتے ہوئے حضور نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا :۔" آج کی دنیا وہ دنیا نہیں رہی جس میں لجنہ کی تنظیم قائم ہوئی تھی۔۱۹۲۲ء میں، مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہے کیونکہ اس وقت میری عمر ۱۳ سال تھی اور اماں جان حضرت ام المومنین ان کے ساتھ ہی میں لگا رہتا تھا۔ویسے تو بعض بچے آٹھ سال کی عمر میں بھی آزاد ہو جاتے لیکن میں آزاد نہیں ہوا تھا۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی ہیں