حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 300 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 300

285 قدیر نے ابھی اس وجود باوجود سے تبلیغ و اشاعت اسلام کی صدہا میں سر کرانا تھیں۔اچانک ایک جھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی اور میں چینا میاں صاحب روکئے اور آپ نے فوراً بیدار ہو کر فرمایا شعر سناتے رہتے تو یوں نہ ہوتا۔۔جب ہماری آنکھ کھلی۔اس وقت ایک بہت بڑا درخت صرف چند گز کے فاصلے پر تھا اور ہماری کار سیدھی اس کی طرف جا رہی تھی۔اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے ہمیں حادثے سے محفوظ رکھا اس پر میں نے پھر بہ لجاجت عرض کیا کہ مجھے تو چھوڑیں، آپ کا وجود از حد قیمتی ہے، پھر آپ کو گاڑی بھی چلانی ہے اس لئے بہتر ہو کہ ہم کچھ دیر گاڑی میں ہی آرام کر لیں تاکہ باقی سفر بخریت گزرے۔اس دفعہ میری درخواست قبول کر لی گئی۔فرمایا۔لیکن ہم زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کے لئے رکیں گے ، میں اس قدر تھک گیا تھا اور میری آنکھیں نیند سے اس قدر بھری ہوئی تھیں کہ میں سر گر بیان میں جھکاتے ہی سو گیا لیکن نہیں کہہ سکتا کہ اس عرصہ میں آپ بھی سوئے یا نہیں کیونکہ ٹھیک انسٹھویں آپ نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا اور سبحن الذي سخر لنا هذا پڑھ کر پھر گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔۔۔حتی کہ ہم کوئی رات کے ساڑھے گیارہ بجے کے قریب لاہور کی مال روڈ پر تھے۔۲۸۴ ایثار کا نمونہ محترم عبد السلام صاحب سابق باڈی گارڈ بیان کرتے ہیں۔وو منٹ پر خاکسار بھمبر ریر (Rear) فورس میں انچارج تھا وہاں تک لڑکوں پر سفر کیا جاتا تھا وہاں سے پیدل باغ سر تک جاتے تھے جہاں فرقان بٹالین کا محاذ تھا۔حضرت میاں ناصر احمد صاحب اور ان کے کچھ ساتھی ایک روز شام کو وہاں پہنچے اور کہا سلام صاحب کچھ گھوڑے مل سکتے ہیں ؟