حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 299
284 ساری رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی اور حضرت صاحبزادہ صاحب نے سکائی لائن پر ادھر سے ادھر بھاگتے ہوئے صبح کر دی۔واضح رہے کہ بربط " اس پہاڑی کا کوڈ نام تھا جس پر فرقان فورس تھی اور " ریچھ " مجاہدوں نے بھارت کی اس پہاڑی کا کوڈ نام رکھا ہوا تھا جو وادی کے دوسری طرف تھی۔اگلے دن دو پھر سے کچھ پہلے ہی ہم لوٹ پڑے کیونکہ واپسی کا سفر ہمیں بھارتی بمباروں سے بچتے بچاتے طے کرنا تھا اور پھر بھمبر اور مارف ہیڈ کوارٹر سے ہوتے ہوئے نماز مغرب سے چند منٹ قبل اپنے Base Camp میں پہنچ گئے۔وضو کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے نماز پڑھائی۔جوں ہی سنن سے فارغ ہوئے۔کیمپ کے انچارج نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو ایک طرف لے جا کر حضرت مصلح موعود کا کوئی ضروری پیغام پہنچایا جسے سنتے ہی آپ نے وہیں سے مجھے آواز دی۔ثاقب ! آؤ گاڑی میں بیٹھو، لاہور چلیں، مجھے چونکہ ارشاد خلافت اور اس کی اہمیت کا کچھ علم نہ تھا میں نے بڑی بے تکلفی سے عرض کیا حضرت میاں صاحب ! جسم تھکے ہوئے ہیں رات بھر جاگتے رہے ہیں۔اس سے پہلی ساری رات پیدل سفر میں گزری ہے۔کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ چند گھنٹے آرام کر لیں پھر چل پڑیں گے۔ساری رات اپنی ہی تو ہے۔آپ نے یہ سنتے ہی فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ جونہی واپس پہنچیں فورا لاہور کے لئے روانہ ہو پڑیں۔بتاؤ اس فوری حکم کے بعد کسی قسم کے توقف کی کیا گنجائش ہے، اور ہم چند ہی منٹوں میں لاہور کے لئے روانہ ہو پڑے۔ولزلی سڑک پر چڑھی تو فرمایا۔اب ثاقب نظم سنانا شروع کر ے تاکہ میں اچھی طرح گاڑی چلا سکوں اور میں نے تعمیل ارشاد کی یہاں تک کہ میں اشعار پڑھتا پڑھتا سو گیا اور سیدی و محبوبی گاڑی چلاتے چلاتے سو گئے اور گاڑی سڑک سے اتر گئی مگر خدائے جلیل و دے