حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 290
275 دسمبر ۱۹۴۷ء میں پاکستان کا پہلا جلسہ سالانہ لاہور میں منعقد ہوا تو اس موقع پر آپ کے ذریعے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خدام کو ڈیوٹیاں دینے کا موقع ملا۔اس کے جلد ہی بعد آپ کو خلیفہ وقت کی طرف سے کشمیر کے جہاد کے لئے احمدی رضا کاروں کی بھاری تعداد مہیا کرنے اور فرقان فورس کے قیام کا حکم ملا اور اس ہنگامی نوعیت کے کام کے لئے آپ کو تقریباً اکیلے ہی (SINGLE HANDED) رضا کاروں کو فرقان فورس میں شامل کرنے کے لئے عظیم جد وجہد کرنا پڑی۔اگرچه فرقان فورس کا قیام کشمیر کے جہاد کے لئے ایک ہنگامی نوعیت کا کام تھا جس کے ساتھ خدام الاحمدیہ کا براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس کا آغاز آپ کے ہی ذریعے ہوا اور یہ معاملہ پہلی بار مجلس خدام الاحمدیہ کی شوری میں پیش ہوا۔اس طرح اس خدمت کو مجلس خدام الاحمدیہ کی ہنگامی نوعیت کی خدمات سے الگ بھی نہیں کیا جا سکتا۔فرقان بٹالین کے لئے خدمات ۱۹۴۷ء میں کشمیر کے محاذ پر پاکستان اور ہندوستان میں جنگ جاری تھی بھارت کی طرف سے باقاعدہ فوج لڑ رہی تھی جبکہ پاکستان کی طرف سے اکثر و بیشتر رضاکار ہی مصروف جہاد تھے ان حالات میں۔شروع میں جموں کے محاذ پر چالیس احمدی نوجوانوں کی ایک پلٹن صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی کمان میں ضلع سیالکوٹ کے ایک سرحدی گاؤں "معراج کے " میں متعین ہو چکی تھی کہ حکومت پاکستان کی طرف سے جماعت کو ایک رضا کار بٹالین قائم کرنے کا مطالبہ ہوا۔حضرت مصلح موعود میں للہ نے اس بٹالین کے قیام، رضاکاروں کی فراہمی۔فوجی تربیت اور انہیں محاذ پر بھیجوانے کے متعلق ضروری انتظامات کرنے کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرما دی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو اس کا صدر نامزد فرمایا۔کمیٹی کے اراکین یہ تھے۔حضرت عصا حبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر ، مولوی عبدالرحیم صاحب درد سیکرٹری سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ممبر مولوی عبد المغنی خان صاحب ممبر اس کمیٹی کے لئے جو دفتر قائم کیا گیا اس کا نام ”قیام امن“ رکھا گیا۔