حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 275
260 حفاظت مرکز ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔اس کے ساتھ ہی ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی کارروائی شروع ہو گئی اس موقع پر قادیان کی حفاظت اور قادیان کے ارد گرد دیہات میں گھرے ہوئے مسلمانوں کی امداد اور انخلاء کا کام آپ نے ۱۴۔اگست سے ۱۵ نومبر ۱۹۴۷ء تک نہایت دلیری اور جانفشانی سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کیا حتی کہ حضرت مصلح موعود نے آپ کو پاکستان بلوا لیا۔رض در اصل ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے ہی حالات بگڑنے شروع ہو گئے تھے اور حضرت مصلح موعود ایڈوانس Base بنانے کے لئے لاہور تشریف لے گئے۔روانگی سے قبل حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو قادیان کا امیر مقرر فرمایا۔ان کے سالار حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ہوا کرتے تھے جب حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو لاہور بلوا لیا پھر صاحبزادہ مرزا عزیز احمد امیر مقرر ہوئے تاہم مرکز کی حفاظت اور وہاں سے احمدیوں کے انخلاء کی ذمہ داری حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے سپرد ہی رہی۔جسے آپ نے نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔اس وقت جو خطرات تھے ان کی نشاندہی آپ کے بعض خطوط سے ہوتی ہے جو آپ نے اپنے اہل و عیال کو پاکستان بھجوائے جو حضرت مصلح موعود کے ساتھ پہلے ہی قادیان سے لاہور چلے گئے تھے۔چنانچہ اپنے گھر ایک خط میں تحریر فرمایا:۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ " ظاہری حالات دگرگوں ہیں۔حیلے سب جاتے رہے تو اب و رحمان خدا کے سہارے کے سوا کچھ باقی نہیں۔چار پانچ ہزار عورتیں اور بچے قادیان میں پھنسے پڑے ہیں ان کے نکالنے کا انتظام کرنا ہے، بڑا ہی مشکل کام نظر آتا ہے۔خدا ہی ہے جو اپنے فضل سے ان غریبوں کی نجات کی کوئی راہ نکالے۔آمین۔جہاں تک ہو سکتا ہے کام کرتے ہیں۔لوگ تو دو آگوں میں ہوتے ہیں، ہم بہت سی آگوں میں ہیں مگر آگ