حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 274 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 274

259 ہوئی تھی اور ایک کیلکولیٹنگ مشین (Calculating Machine) مل جائے جو جلد جلد ضرب اور تقسیم کرتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے راتوں رات ایک ایسا نقشہ تیار کر سکتا ہوں کہ اس سے ضلع گورداسپور کی بالغ آبادی صحیح تعداد سنسز (CENSUS) کے اصول کے مطابق معلوم ہو جائے گی۔سنسز (Census) کے متعلق انہوں نے بعض اصول مقرر کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے عمر کے لحاظ سے گروپ بنائے ہوئے ہیں اور ہر گروپ کی وفات کی فیصد انہوں نے مقرر کی ہوئی ہے۔وہ تو ایک سال کی عمر سے شروع کرتے ہیں لیکن ہم نے ایسی عمر سے یہ کام شروع کرنا تھا کہ انہیں ۱۹۴۷ء میں بلوغت تک پہنچا دیں مثلاً انہوں نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ تین سال کی عمر کے بچے چار سال کی عمر تک سو میں سے پچانوے رہ جائیں گے۔پھر چار سال سے پانچ سال کی عمر کے ہونے تک سو میں سے اٹھانوے رہ جائیں گے۔بہر حال انہوں نے بعض اسی قسم کے اصول وضع کئے ہوئے ہیں اور ہمیں ہر گروپ کو ضربیں اور تقسیمیں دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں کی علیحدہ علیحدہ تعداد نکالنی تھی اور وہ تعداد معلوم کرنی تھی جو ۱۹۴۷ء میں بالغ ہو چکی تھی اور جو پہلے بالغ تھے ان کی تعداد تو پہلے ہی دی ہوتی تھی۔میں نے حضرت فضل عمر بی اللہ کی خدمت میں عرض کیا تو حضور نے فوراً مناسب انتظام کر دیا۔راتوں رات مجھے شاید پچاس ہزار یا ایک لاکھ ضربیں دینی پڑیں اور تقسیمیں کرنی پڑیں لیکن بہرحال ایک نقشہ تیار ہو گیا اور اس نقشہ کے مطابق ضلع گورداسپور کی مسلم بالغ آبادی کی فیصد مجموعی لحاظ سے کچھ زائد تھی کم نہیں تھی۔اگلے دن صبح جب مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے یہ حساب پیش کیا تو ہندو گھبرائے کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو حساب کا ماہر سمجھتے تھے اور انہیں خیال تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔“۱۳