حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 182
167 داخل کروا دیا۔جس وقت یہ انٹرویو میں جائے گا۔لوگوں کو یہ پتہ لگے گا یہ ٹی آئی کالج میں رہا ہے۔اس کو لیں گے نہیں اور یہ دینوی طور پر ترقی نہیں کر سکے گا۔چنانچہ وہ میرے پاس آگیا۔میں خالی پرنسپل نہیں تھا اس کا دوست بھی تھا۔میرے دل میں اس کے بچے کے لئے بڑا پیار تھا۔میں نے اس کو پندرہ بیس منٹ تک سمجھایا کہ اپنی جان پر ظلم نہ کرو خدا تعالی بڑی غیرت رکھتا ہے جماعت احمدیہ اور اس کے اداروں کے لئے۔تمہیں سزا مل جائے گی۔خیر وہ سمجھ گیا اور چلا گیا۔پھر انہوں نے بھڑ کایا پھر میرے پاس آگیا۔پھر میں نے سمجھایا پھر چلا گیا۔پھر تیسری دفعہ جب آیا تو میں نے سمجھا اس کے باپ کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔میں نے کہا ٹھیک ہے میں دستخط کر دیتا ہوں مگر تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ لڑکا جس کے متعلق تم یہ خواب دیکھ رہے ہو کہ وہ سپیرئر سروسز کے امتحان میں پاس ہو کر ڈی سی بنے گا۔یہ ایف اے بھی نہیں پاس کر سکے گا۔وکرڈ اس نے مائیگریشن فارم پر کیا ہوا تھا اتنے اچھے نمبر تھے کہ ٹی آئی کالج سے گورنمنٹ کالج اسے بڑی خوشی سے لے لیتا چنانچہ میں نے اس کے فارم پر دستخط کئے اور وہ اسے لے کر چلے گئے۔پھر مجھے شرم کے مارے ملا بھی نہیں۔کوئی چار پانچ سال کے بعد مجھے ایک خط آیا جو شروع یہاں سے ہوتا تھا کہ میں آپ کو اپنا تعارف کرا دوں میں وہ لڑکا ہوں جس کے مائیگریشن فارم پر آپ نے دستخط کئے تو مجھے اور میرے باپ سے کہا تھا کہ میں ایف اے بھی نہیں پاس کر سکوں گا۔اور چار پانچ سال کا زمانہ و گیا ہے اور میں واقعی ایف اے پاس نہیں کرسکا پھر وہ تجارت میں لگ گیا۔اب پھر مجھے ایک خط آیا جو اسی سفر میں ملا کہ میں اس کا بیٹا ہوں جس کو آپ نے یہ کہا تھا کہ تو ایف اے پاس نہیں کر سکے گا۔پس خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ایک کالج اور اس کے ایک پرنسپل کے لئے اتنی غیرت دکھاتا ہے تو خلیفہ وقت کے لئے کتنی غیرت دکھائے گا۔“ کے ہیں۔